اسلام آباد ۔ 9 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ ہم حکمرانی کرنے کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے آئے ہیں، آپ نے 35 سال میں ایسا ہسپتال نہیں بنایا جس میں آپ اپنا علاج کرا سکیں، آپ کاایک بیٹا جیل کے اندر ہے، دوسرا مفرور ہے، جن لوگوں پر کرپشن کے الزامات ہیں ان کو خود جواب دینا چاہیے، اپوزیشن …
وفاقی وزیر مواصلات مراد سعیدکا قومی اسمبلی میں خواجہ محمد آصف اور راجہ پرویز اشرف کے نکات پرجواب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ ہم حکمرانی کرنے کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے آئے ہیں، آپ نے 35 سال میں ایسا ہسپتال نہیں بنایا جس میں آپ اپنا علاج کرا سکیں، آپ کاایک بیٹا جیل کے اندر ہے، دوسرا مفرور ہے، جن لوگوں پر کرپشن کے الزامات ہیں ان کو خود جواب دینا چاہیے، اپوزیشن لیڈر ہوتے ہوئے شہباز شریف کو شہزاد اکبر کے سوالات کا جواب دینا چاہیے، گزشتہ جمہوری حکومتوں میں ہر حکومت نے ایک سال میں اوسطاً 29 آرڈیننس منظور کئے، تحریک انصاف نے ڈیڑھ سال میں 19 آرڈیننس پاس کئے اور اس پر شور مچایا گیا، آپ ہمیں جمہوریت نہ سکھائیں، انسداد بدعنوانی کے عالمی دن پر اسمبلی میں بحث و مباحثہ ہونا چاہیے تھا لیکن اپوزیشن والے اس پر بحث و مباحثہ نہیں کرتے، انسداد کرپشن کے عالمی دن پر شہباز شریف کو جواب دینا چاہیے کہ انہوں نے برطانوی صحافی کے خلاف کیس کیوں نہیں کیا، شہباز شریف نے نثار گل کو ڈائریکٹر پولیٹیکل افیئر اور علی احمد کو ڈائریکٹر مقرر کیا ان کا کام کرپشن کا پیسہ اکٹھا کرنا تھا، انہوں نے گڈ نیچر کے نام سے کمپنی بنائی، سی ایم کے آفس اور گھر میں کارروائی کرتے رہے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف، پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف کے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ دونوں اراکین نے لندن میں ایک گھر کے سامنے احتجاج کی بات کی ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں لیکن یہ اس گھر کی بات کر رہے ہیں جس کو ثابت کرنے میں پانچ سال لگے کہ یہ انہی کا گھر ہے، مظاہرہ پاکستان سالیڈیرٹی فرنٹ کی طرف سے کیا گیا، ہم اس طرح کے احتجاج کی حوصلہ شکنی اور مذمت کرتے ہیں، جن لوگوں نے مظاہرہ کیا انہوں نے سوال اٹھایا ہے، آپ نے تو ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا بعد میں نعرہ لگایا کہ ہمیں اجازت دو۔ احتجاج کرنے والے کہہ رہے تھے کہ ہم دیار غیر میں محنت مزدوری کرتے ہیں، آپ ہمیں بتائیں کہ لندن میں بڑے بڑے محلات کے لئے پیسہ پاکستان سے آیا، یہ کیسے آیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ قوم کو یاد دلاتے ہیں کہ یہ وہ جائیدادیں ہیں کہ جن کے بارے میں قوم کو بتایا جاتا رہا کہ ان کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی جائیدادیں نہیں۔ مراد سعید نے کہا کہ جو لوگ اس طرح کے احتجاج پر آج بات کر رہے ہیں، ماضی میں انہوں نے عمران خان کے خلاف ماربل اور دہشت گردی کے پرچے درج کرائے، یہ ان کی تاریخ رہی ہے، دھمکیوں کا کلچر نہیں چلے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جب سپریم کورٹ میں کیس چل رہا تھا تو مسلم لیگ (ن) کے ایک ایک رہنما یہ باتیں کر رہے تھے کہ یہ ان کی جائیداد نہیں ہے، وزیر دفاع ہوتے ہوئے اقامہ حاصل کیا گیا، اس کا جواب دینا چاہیے، انہوں نے وزارت کا حلف بھی لیا اور ساتھ میں تنخواہ بھی لیتے رہے، اگر وزیر ہوتے ہوئے اقامہ لیا تو اس کا جواب ضرور دینا چاہیے، احسن اقبال نے اپنے بھائی کو غلط طریقے سے ٹھیکے دلوائے تو اس پر سوال اٹھیں گے، کیا شہباز شریف سے کسی نے ٹی ٹی سکینڈل پر سوال کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ شہزاد اکبر نے جب ٹی ٹی سکینڈل کو بے نقاب کیا تو شہباز شریف نے کہا کہ وہ برطانیہ کی عدالت میں برطانوی صحافی اور شہزاد اکبر کے خلاف کیس کریں گے، شہباز شریف نے آج تک یہ کیس فائل نہیں کیا۔ مراد سعید نے کہا کہ اراکین نے قانون سازی اور آرڈیننس کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے ہیں، محترمہ بے نظیر بھٹو کے تین سالہ دور اقتدار میں 357 آرڈیننسز پاس ہوئے، ایک سال کی اوسط 119 آرڈیننسز بنتے ہیں، گزشتہ جمہوری حکومتوں میں ہر حکومت نے ایک سال میں اوسطاً 29 آرڈیننس منظور کئے، تحریک انصاف نے ڈیڑھ سال میں 19 آرڈیننس پاس کئے اور اس پر شور اٹھایا گیا، آپ ہمیں جمہوریت نہ سکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج انسداد بدعنوانی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، اس پر اسمبلی میں بحث و مباحثہ ہونا چاہیے تھا لیکن اپوزیشن والے اس پر بحث و مباحثہ نہیں کرتے، انسداد کرپشن کے عالمی دن پر شہباز شریف کو جواب دینا چاہیے کہ انہوں نے برطانوی صحافی کے خلاف کیس کیوں نہیں کیا، شہباز شریف نے نثار گل کو ڈائریکٹر پولیٹیکل افیئر اور علی احمد کو ڈائریکٹر مقرر کیا ان کا کام کرپشن کا پیسہ اکٹھا کرنا تھا، انہوں نے گڈ نیچر کے نام سے کمپنی بنائی، سی ایم کے آفس اور گھر میں کارروائی کرتے رہے، قوم کو اچھی طرح یاد ہے کہ جب پانامہ سکینڈل آیا تو خواجہ آصف نے کہا کہ فکر نہ کریں یہ لوگ بھول جائیں گے لیکن عمران خان نے کہا کہ قوم نہیں بھولے گی۔ مراد سعید نے کہا کہ ہرے رنگ کی بلٹ پروف گاڑی کی حفاظت ایلیٹ فورس کرتی تھی اس گاڑی میں کک بیکس سپیشلسٹ سلمان شہباز کے ایک ایک پراجیکٹ میں لو ٹے گئے اربوں روپے کی کرپشن کی رقوم لے کر منتقل کئے جاتے تھے، شہزاد اکبر نے اس ضمن میں شہباز شریف سے اٹھارہ سوالات پوچھے لیکن کسی ایک کا جواب نہیں دیا گیا۔ ان کی کرپشن کی کہانی آشیانہ سے شروع ہو کر ملتان میٹرو سے ہوتی ہوئی 56 کمپنیوں اور صاف پانی تک پہنچی ہے۔ مراد سعید نے کہا کہ کرپشن سے حاصل رقوم کو ماڈل ٹاﺅن میں یہ لوگ جواریوں کی طرح گنتے تھے اس کے بعد یہ پیسہ پاکستان سے باہر منتقل ہوتا رہا، جب بھی ضرورت ہوتی منظور پاپڑ والے کے ذریعے یہ پیسے واپس آتے تھے، دو سو ٹی ٹیوں کے ذریعے یہ پیسہ پاکستان واپس لایا گیا، ان کے پانچ کیمپ آفسز تھے، شہباز شریف نے تہمینہ درانی کے لئے اور حمزہ شہباز نے بیگمات کے لئے انہی ٹی ٹیوں کے ذریعے پیسہ پاکستان منتقل کیا، اس حوالے سے سوالات کے جوابات آنے چاہئیں۔ مراد سعید نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر ہوتے ہوئے شہباز شریف کو ہمارے اور پوری پاکستانی قوم کے سوالات کے جوابات دینے چاہئیں، شہباز شریف نے پاکستان اور ملک و قوم کی عزت کو داﺅ پر لگا دیا ہے، وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے سی ایم کی گاڑی کو کس مقصد کے لئے استعمال کیا گیا، سی ایم ہاﺅس میں بیٹھ کر فرنٹ مینوں کے ذریعے کمپنیاں بنائی گئیں، ان کو سارے سوالات کے جوابات دینے ہوں گے، پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع ہوتے ہوئے اقامہ لے کر ان لوگوں کو کیا شرم نہیں آئی، جن کمپنیوں کے یہ اقامہ ہولڈر تھے ان کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں کون کون لوگ تھے، ان سوالات کے جواب آنے چاہئیں۔ مراد سعید نے کہا کہ ہم حکمرانی کرنے کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے آئے ہیں، آپ نے 35 سال میں ایسا ہسپتال نہیں بنایا جس میں آپ اپنا علاج کر سکیں، آپ کا بیٹا جیل کے اندر ہے، دوسرا مفرور ہے۔ مراد سعید نے کہا کہ جن لوگوں پر کرپشن کے الزامات ہیں ان کو خود جواب دینا چاہیے۔ وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ جس طرح پاکستان یہ چھوڑ کر گئے تھے، تمام ادارے خسارے میں تھے، برآمدات بند ہو چکی تھیں، 102 سے ٹیکسٹائل ملز بند تھیں، حسابات جاریہ کا خسارہ ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا تھا، 24 ارب ڈالر کے قرضے قوم پر چڑھائے گئے، کیا یہ پیسہ قوم پر لگایا گیا، ہم یہ عزم کر کے آئے ہیں کہ اس سب کا احتساب ہو گا، دس سالوں میں یہ لوگ ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے لیکن پھر خاموشی اختیار کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ قیادت دیانتدار ہو تو معیشت درست سمت میں گامزن ہو جاتی ہے، آج ملک میں معیشت مستحکم ہے، ہم قانون سازی کے لئے آئے ہیں، یہ ملک ہم سب کا ہے، اگر کسی نے دھرتی ماں کو لوٹا ہے تو اس کو جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی ہونا چاہیے چارٹر آف ڈکیتی نہیں ہونا چاہیے، ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں سب کے لئے ایک قانون اور ایک نظام ہو، ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں اڑھائی کروڑ بچوں کو سکولوں میں داخلہ دلایا جا سکے، اگر میثاق جمہوریت کرنا ہے تو تھر کے ان بچوں کو بچانے کے لئے کرنا چاہیے جو بھوک اور بیماریوں سے مر رہے ہیں۔ مراد سعید نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی محنت مزدوری کے لئے گئے ہیں اور قیمتی زرمبادلہ ملک میں بھیجتے ہیں اور اگر وہ لوگ سوالات اٹھاتے ہیں تو ان کے سوالات کے جواب آنا چاہیے۔








