وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کی فیزیبلٹی سٹڈی کا کک آف اجلاس، بین الاقوامی توانائی کنسلٹنسی میسرز ووڈ میک کینزی نے ایس پی آر کی فیزیبلٹی سٹڈی کاٹینڈر جیت لیا
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کی فیزیبلٹی سٹڈی کا کک آف اجلاس، بین الاقوامی توانائی کنسلٹنسی میسرز ووڈ میک کینزی نے ایس پی آر کی فیزیبلٹی سٹڈی کاٹینڈر جیت لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر (ایس پی آر) کی فیزیبلٹی سٹڈی کا کک آف اجلاس منعقد ہوا جس میں بین الاقوامی توانائی کنسلٹنسی میسرز ووڈ میک کینزی نے پاکستان میں سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کی فیزیبلٹی سٹڈی کاٹینڈر جیت لیا۔ترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کی فیزیبلٹی سٹڈی کے لیے ووڈ میک کینزی کا انتخاب مسابقتی ٹینڈر کے ذریعے کیا گیا جس میں چار بولیاں موصول ہوئیں۔ اجلاس میں وفاقی وزیر کو سٹڈی کے دائرہ کار اور مقاصد پر بریفنگ دی گئی جبکہ سٹڈی کی مدت اور طریقہ کار پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ وفاقی حکومت توانائی کے تحفظ کو قومی سلامتی سے منسلک سمجھتے ہوئے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، توانائی کی فراہمی کو مستحکم بنانا اور بیرونی عوامل کے باعث پیدا ہونے والے سپلائی میں تعطل کے خطرات کو کم کرنا موجودہ حکومت کی اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے حالیہ بحران نے سپلائی میں ممکنہ تعطل کے خلاف ملکی بفرز اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے کی ضرورت مزید اجاگر کردی ہے۔ سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کا اقدام ممکنہ سپلائی شاکس کے لیے ملک کی تیاری مضبوط بنانے کے طریقوں کا جائزہ لینے کی جانب اہم قدم ہے۔
ای سی سی بڑے عالمی آئل پلیئرز کے لیے عالمی معیار کی بانڈڈ سٹوریج سکیم کی پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ سٹڈی کرانے کا مقصد حکومت کو کسی بڑے سٹریٹجک اقدام سے قبل باخبر اور شواہد پر مبنی فیصلہ کرنے کے قابل بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سٹڈی میں پاکستان کی ضروریات کے مطابق قابل عمل اور عملی حل پیش کیا جائے اور سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کی مرحلہ وار ترقی سمیت موزوں ترین طریقہ کار کا تعین کیا جائے۔ ووڈ میکینزی کی ٹیم نے کہا کہ پاکستان کے لیے بالخصوص عالمی توانائی کے بدلتے ہوئے منظرنامے اور حالیہ سپلائی میں تعطل کے تناظر میں توانائی سلامتی پر کام کرنے کا یہ موزوں وقت ہے۔ ٹیم نے کہا کہ سٹڈی میں پاکستان کی مخصوص ضروریات اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک عملی حل تیار کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
سٹڈی میں مجوزہ سٹریٹجک سٹوریج سہولیات کی تکنیکی فزیبلٹی، سالمیت، حفاظت اور آپریشنل جائزہ، بین الاقوامی و علاقائی معیارات، پالیسی و ریگولیٹری تقاضوں اور مختصر، درمیانی اور طویل مدتی عملدرآمد کے آپشنز کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ قانونی، ریگولیٹری، مالیاتی، تجارتی اور ادارہ جاتی انتظامات بشمول پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ممکنہ ماڈلز کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ سٹڈی میں موجودہ انفراسٹرکچر کا بھی جائزہ لیا جائے گا جسے سٹریٹجک سٹوریج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ کنیکٹیویٹی اور لاجسٹکس کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرمایہ جاتی اخراجات، فنانسنگ کے آپشنز، عملدرآمد کے ٹائم لائنز اور پاکستان میں سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کی مرحلہ وار ترقی کے لیے ادارہ جاتی ذمہ داریوں کے تخمینے بھی پیش کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو ووڈ میکینزی کے ساتھ مکمل تعاون کرنے اور مطلوبہ ڈیٹا و تکنیکی معلومات بروقت فراہم کرنے کی ہدایت کی تاکہ سٹڈی طے شدہ ٹائم لائنز کے اندر مکمل ہو اور مستقبل کے پالیسی فیصلوں کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر سکے۔ اس سلسلے میں پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لیے ایک سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔اجلاس میں ووڈ میکینزی، اے آر ایل، پائیڈ، جی ایچ پی ایل، وزارت بحری امور اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے نمائندگان نے شرکت کی۔







