وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کی پاکستان میں منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو

اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے منسلک ہیں، حکومت نے اوگرا کی طرف سے اضافے کے لئے بھجوائی جانے والی سمری کو منظور نہیں کیا، عوام کو اوگرا کی سمری کے برعکس ریلیف دیا گیا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں پاکستان میں …

اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے منسلک ہیں، حکومت نے اوگرا کی طرف سے اضافے کے لئے بھجوائی جانے والی سمری کو منظور نہیں کیا، عوام کو اوگرا کی سمری کے برعکس ریلیف دیا گیا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں پاکستان میں منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ غلام سرور خان نے کہا کہ اوگرا ہر مہینے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کی صورتحال کا جائزہ لیکر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے حوالے سے سمری بھجواتی ہے جس کے بعد سمری وزارت خزانہ میں جاتی ہے اور حتمی منظوری وزیراعظم کی طرف سے دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہوتی ہیں۔ اس وقت بھی بھارت میں ڈیزل کی قیمت پاکستان سے زیادہ ہے۔ اوگرا نے 11 روپے سے زائد کا اضافہ تجویز کیا تھا جسے ہم نے منظور نہیں کیا اور 6 روپے تک کا اضافہ کیا ہے تاکہ عوام پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لئے ڈرلنگ جاری ہے، 4000 میٹر سے زائد کی ڈرلنگ ہو چکی ہے اور 5500 میٹر تک ڈرلنگ کی جائے گی، ڈرلنگ کے مثبت اثرات سامنے آنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے اس حوالے سے معاہدہ کیا تھا لیکن عملدرآمد ہم نے کیا ہے اور تیل کمپنیوں کو سہولیات دی ہیں اور بعض استثنیٰ ختم کئے ہیں جس سے اس شعبے میں نئی سرمایہ کاری بھی آ رہی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر پٹرولیم کو پاکستان معدنی ترقیاتی کارپوریشن امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفاقی وزیر نے کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کے تحت پودا بھی لگایا۔

Leave a Reply