اسلام آباد ۔ 15 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر پٹرولیم ڈویژن غلام سرور خان نے کہا ہے کہ مافیا کے خلاف ہماری کھلی جنگ ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقہ سے ہو، ہم عام آدمی کو ریلیف دینا چاہتے ہیں، ہم نے گزشتہ تین ماہ میں ڈیزل کی قیمت میں اضافہ نہ کرکے عوام کو ریلیف دیا، سابق دور حکومت میں جو ریلیف ملا اس کا فائدہ …
وفاقی وزیر پٹرولیم ڈویژن غلام سرور خان کا انٹرویو
اسلام آباد ۔ 15 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر پٹرولیم ڈویژن غلام سرور خان نے کہا ہے کہ مافیا کے خلاف ہماری کھلی جنگ ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقہ سے ہو، ہم عام آدمی کو ریلیف دینا چاہتے ہیں، ہم نے گزشتہ تین ماہ میں ڈیزل کی قیمت میں اضافہ نہ کرکے عوام کو ریلیف دیا، سابق دور حکومت میں جو ریلیف ملا اس کا فائدہ عوام کو نہیں پہنچایا گیا۔ یہاں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کہ فرنس آئل کی درآمد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے سوئی ناردرن میں گیس چوری( یو ایف جی) کی مد میں 11 فیصد کے حساب سے 22 ارب جبکہ سوئی سدرن نے 13 فیصد کے حساب سے 26 ارب روپے کا خسارہ ہوا۔ جو کہ پچھلے پانچ سالوں میں ہر سال ایک فیصد بڑھتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں کمپنیاں 154 ارب روپے کے خسارے میں چلی گئیں جس کا براہ راست اثر گیس کی قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں سامنے آیا لیکن اب ان دونوں کمپنیوں کو گیس چوری کی مد میں سالانہ ایک فیصدکمی کا ٹارگٹ دیا گیا ہے اور اس ٹارگٹ کے حصول کےلئے انہیں مقامی پولیس کا تعاون بھی حاصل ہو گا۔ اس سلسلہ میں صوبائی حکومتوں کی مدد سے ہر ریجن میں ایک پولیس سٹیشن قائم کیا جائے گا جوگیس چوری روکنے اور اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لانے میں مدد فراہم کرے گا۔ غلام سرور خان نے بتایا کہ پانی کے بحران کے سلسلے میں سابقہ حکومت نے اپنے دور میں پیش کی جانے والی تحریک التواءکو جان بوجھ کر دبا لیا تھا تاہم موجودہ حکومت قومی امور میں اپوزیشن کے تعمیری تنقید کو خوشدلی سے قبول کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو سوئی ناردرن گیس اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے بورڈز میں نمائندگی دی جائے گی، اپنے چھوٹے صوبوں کو ان کے حق سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔ وفاقی وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ سابقہ حکومت نے گزشتہ پانچ سالوں میں کوئی نئی بِڈنگ نہیں کی جبکہ ہم نے 10 بلاکس اوپن بڈنگ میں رکھے تاکہ ملک میں گیس کی طلب کو پورا کیا جائے۔








