لاہور۔3 دسمبر(اے پی پی )وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی وسائل غلام سرور خان نے کہا ہے کہ حکومت زیرو ریٹڈ برآمدی انڈسٹری کو چلانے کی غرض سے تین ماہ کیلئے 25 ارب روپے کی سبسڈی دے گی ان صنعتوں کو16 اکتوبر سے نئے گیس ٹیرف کے حساب سے بل آئیں گے، وزارت پیٹرولیم کی 14کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس …
وفاقی وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل غلام سرور خان کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
لاہور۔3 دسمبر(اے پی پی )وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی وسائل غلام سرور خان نے کہا ہے کہ حکومت زیرو ریٹڈ برآمدی انڈسٹری کو چلانے کی غرض سے تین ماہ کیلئے 25 ارب روپے کی سبسڈی دے گی ان صنعتوں کو16 اکتوبر سے نئے گیس ٹیرف کے حساب سے بل آئیں گے، وزارت پیٹرولیم کی 14کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس میں سے پی ایس او ،پی پی ایل،پارکو،ایس این جی پی ایل،جی ایچ پی ایل اور او جی ڈی سی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا کام حتمی مراحل میں ہے ، نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تقرری آئندہ 100 روز میں مکمل کر لی جائے گی، حکومت فی الحال کوئی گیس معاہدہ ختم نہیں کر رہی نیب اور سپریم کورٹ ایل این جی معاہدے کے معاملہ کا جائزہ لے رہے ہیں سوئی ناردرن گیس کے سالانہ 22 ارب روپے اور سوئی سدرن گیس کے 26 ارب روپے لائن لاسز ہیں حکومت کی کوشش ہے کہ سالانہ ایک فیصد لائن لاسز کم کئے جائیں سوئی ناردرن نے گیس چوری میں ملوث 10ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا ہے ملک میں تمام بحرانوں کے ذمہ دار وہ افراد ہیں جو تین بار وزیراعظم منتخب ہوئے۔ وہ پیر کے روز سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ ہیڈ کوارٹر ز میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔








