وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا ٹیلی نار پاکستان کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی)وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستانی معاشرہ کو بااختیار بنانے میں ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبہ کا کردار قابل تحسین ہے، یہ وہ شعبہ ہے جس میں ہمارے مستقبل کی ترقی اور فیصلوں کا انحصار شامل ہے، انہوں نے حکومت کے قومی ڈیجیٹل خدمات کے ایجنڈا میں حکومت کی معاونت پر بالعموم ٹیلی کام …

اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی)وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستانی معاشرہ کو بااختیار بنانے میں ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبہ کا کردار قابل تحسین ہے، یہ وہ شعبہ ہے جس میں ہمارے مستقبل کی ترقی اور فیصلوں کا انحصار شامل ہے، انہوں نے حکومت کے قومی ڈیجیٹل خدمات کے ایجنڈا میں حکومت کی معاونت پر بالعموم ٹیلی کام سیکٹر اور بالخصوص ٹیلی نار پاکستان کی معاونت کو سراہا، انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستانی عوام کو بااخیتار بنانے کے مقصد کیلئے وہ مستقبل کے تمام اقدامات میں مکمل تعاون فراہم کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ٹیلی نار پاکستان کی فرنٹیئر اکنامکس کی نئی کنکٹیویٹی رپورٹ کے نتائج سے آگاہ کرنے کیلئے اپنے 345 ویں کیمپس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشنز کے تحت چلنے والے شعبوں کا معاشی ترقی میں 75 فیصد حصہ ہے۔ ”The Mobile Effect How Connectivity Enables Growth” کے عنوان سے ٹیلی نار گروپ کی جانب سے کی گئی سٹڈی میں ایشیاء کے پانچ ممالک بشمول پاکستان، بنگلہ دیش، میانمار، تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی معیشتوں میں ٹیلی کمیونیکیشنز کے اثرات کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے، یہ وہ ممالک ہیں جہاں ٹیلی نار گروپ اپنی سروسز فراہم کر رہا ہے۔ تقریب میں مختلف شعبوں سے ماہرین نے موضوع کے حوالہ سے اظہار خیال کیا۔ پینل اراکین میں ٹیلی نار گروپ کے سینئر نائب صدر ہاکن براوسیٹ کجول، ٹیلی نار پاکستان کے چیف کارپوریٹ افیئرز آفیسر کمال احمد، سی ای او میکرو اکنامک انسائٹس ثاقب شیرانی، امپیکٹ نیٹ ورکس کی ٹیم لیڈر شاہدہ سلیم، اگنائٹ کے سی ای او یوسف حسین، یونیسف کے چائلڈ پروٹیکشن پروگرام کی سربراہ سلویا پاستی شامل تھیں۔ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیلی کام کے اہم شعبوں کا معاشی ترقی میں دیگر کے مقابلہ میں زیادہ حصہ ہے، پاکستان کیلئے ان شعبوں میں ہول سیل و ریٹیل تجارت، تعمیر و مرمت، ٹرانسپورٹ اور گھریلو اشیاء شامل ہیں۔ ایشیاء میں موبائل فنانشل سروسز بڑھ رہی ہیں، اس کے نتیجہ میں شہری و دیہی مالیاتی تقسیم میں کمی واقع ہوئی ہے، پاکستان کی 18 فیصد آبادی نے 2017ء میں ڈیجیٹل ادائیگیاں کیں یا وصول کیں جن میں سے 15 فیصد پاکستان کے دیہی علاقوں سے ہوئیں۔ موبائل والٹ اکائونٹس کی ملکیت 7 فیصد رہی اور 6 فیصد کا ایک بڑا حصہ دیہی علاقوں سے آیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موبائل مالیاتی خدمات مؤثر طریقہ سے عوام کو مالیاتی خدمات کے دھارے میں شامل کر رہی ہیں۔ ٹیلی نار پاکستان کا سماجی اثر بھی اہم رہا ہے، کمپنی کا یونیسف کے ساتھ قریبی شراکت داری کے ذریعے ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن کا اقدام ایک حقیقی مثال ہے کہ بچوں کو شناخت کا بنیادی حق دینے اور ملک کی سماجی و اقتصادی سرگرمی کا ضروری حصہ بنانے کیلئے کس طرح ٹیلی کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کو تقویت دی جا سکتی ہے۔ تجرباتی مرحلہ میں صرف 6 ماہ کے دوران برتھ رجسٹریشن میں 30 فیصد سے 90 فیصد تک اضافہ ہوا اور تقریباً 50 فیصد رجسٹرڈ بچوں میں لڑکیاں شامل تھیں۔ اس وقت تک ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن سندھ کے چار اضلاع اور پنجاب کے تین اضلاع میں شروع کی گئی ہے۔ سات لاکھ سے زائد بچے اب تک رجسٹر کئے جا چکے ہیں اور 2019ء کے آخر تک 1.1 ملین بچوں کی رجسٹریشن کرنے کا عزم ہے۔ ٹیلی نار پاکستان کے سی ای او عرفان وہاب خان نے اس موقع پر کہا کہ گذشتہ چند سالوں سے موبائل رابطہ میں کئی گنا اضافہ اور ترقی ہوئی ہے اور یہ یقینی طور پر صنعتوں میں ڈیجیٹل ترقی اور تبدیلی کی بنیاد بن گئی ہے۔ موبائل براڈ بینڈ تک رسائی میں اضافہ سے اعلیٰ قومی پیداوار کی جانب حوصلہ افزائی ہو گی اور ای کامرس، ای ہیلتھ، ای ایجوکیشن، ای سٹیزن خدمات اور زراعت چند ایسے شعبوں کے نام ہیں جن میں ترقی کے ذریعے جی ڈی پی میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں قابل فخر شراکت دار ہیں اور بہتر کارکردگی اور مؤثر طریقہ سے ملک کی خدمات کیلئے ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply