وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشنز سائرہ افضل تارڑکانیشنل ہیومن ریسورس 2018-30ءہیلتھ وژن کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔4 اپریل(اے پی پی ) وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشنز سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل لوگوں کے مستقبل میں پنہاں ہے، روشن مستقبل کے لیے عوام کو بہتر طور پر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف اسی وقت ممکن ہے جب عوام خود صحت مندانہ اور سود مند زندگی گزار تے ہوں۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران …

اسلام آباد ۔4 اپریل(اے پی پی ) وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشنز سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل لوگوں کے مستقبل میں پنہاں ہے، روشن مستقبل کے لیے عوام کو بہتر طور پر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف اسی وقت ممکن ہے جب عوام خود صحت مندانہ اور سود مند زندگی گزار تے ہوں۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران حکومت نے صحت کی دستیاب سہولتوں میں بہتری اور اضافے کے لیے خاطر خواہ کوششیں کی ہیں۔ یہ بات انہوں نے نیشنل ہیومن ریسورس 2018-30ءہیلتھ وژن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ اس وقت ملک میں نرسوں اور مڈوائیوز تیار کرنے کی استعداد 9 ہزار ہے جو آئندہ پانچ سالوں میں دوگنا کرنا ہو گی جس کے لیے نرسنگ سکولز اور کالجز بنانے کی ضرورت ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی موجودہ تعداد 93 ہزار سے کم ہے ، اسے آئندہ پانچ سالوں میں ایک لاکھ 80 ہزار سے بھی بڑھانا ہوگا تاکہ کمیونٹی کو دہلیز پر ضروری پرائمری طبی نگہداشت فراہم کی جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل اور نرسنگ کی تعلیم کو جدید بنانا ہو گا، ملک کوہیومن ریسوس ہیلتھ کے قابل اعتماد ڈیٹا اور تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔