وفاقی کابینہ نے ریپ اور بچوں سے بدسلوکی کی لعنت سے نمٹنے کے لئے دو اہم آرڈیننسں کی منظوری دے دی ہے، ان آرڈیننس کی شدت سے ضرورت تھی، وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے منگل کو پاکستان پینل کوڈ میں ضروری ترامیم متعارف کرانے کے لئے ریپ اور بچوں سے بدسلوکی کی لعنت سے نمٹنے کے لئے دو اہم آرڈیننسو ں کی منظوری دی ہے۔ منظور کئے جانے والے بلوں میں اینٹی ریپ (انوسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس 2020ءاور پاکستان پینل کوڈ (ترمیمی) آرڈیننس 2020ءشامل ہیں۔ …

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے منگل کو پاکستان پینل کوڈ میں ضروری ترامیم متعارف کرانے کے لئے ریپ اور بچوں سے بدسلوکی کی لعنت سے نمٹنے کے لئے دو اہم آرڈیننسو ں کی منظوری دی ہے۔ منظور کئے جانے والے بلوں میں اینٹی ریپ (انوسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس 2020ءاور پاکستان پینل کوڈ (ترمیمی) آرڈیننس 2020ءشامل ہیں۔ منگل کو اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے معاملات کو حل کرنے کے لئے کابینہ کمیٹی (سی سی ایل سی) ان آرڈیننس کو حتمی شکل دے گی اور آئندہ چند دن میں ان پر عمل درآمد ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ان بلوں میں عصمت دری کی وسیع تعریف، خصوصی عدالتوں کا قیام اور اینٹی ریپ کرائسز سیل، متاثرین اور گواہوں کا تحفظ اور دو انگلیوں کے ٹیسٹ کی ممانعت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان آرڈیننس کی شدت سے ضرورت تھی۔