وفاقی کابینہ نے وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی جانب سے پیش کردہ پرائیویٹ حج پالیسی 2027-2030 کی منظوری دے دیدی

وفاقی کابینہ نےپرائیویٹ حج پالیسی 2027-2030 کی منظوری دے دیدی

اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):وفاقی کابینہ نے وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی جانب سے پیش کردہ پرائیویٹ حج پالیسی 2027-2030 کی منظوری دیدی ہے، جس کے تحت نجی حج انتظامات کو جدید، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت استوار کیا جائے گا۔وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پرائیویٹ حج کے لیے روایتی کوٹہ سسٹم کی جگہ کارکردگی اور قواعد و ضوابط کی پابندی پر مبنی نظام نافذ کیا جائے گا۔ تمام موجودہ حج آپریٹرز کی دوبارہ جانچ لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ ان کی آزاد ماہرین کے ذریعے درجہ بندی بھی کی جائے گی۔

ترجمان نے بتایا کہ پرائیویٹ حج کوٹہ ’’پہلے آئیں، پہلے پائیں‘‘ کی بنیاد پر مختص کیا جائے گا۔ ہر حج آپریٹر کے لیے کم از کم دو ہزار حجاج کی بکنگ لازمی ہوگی جبکہ مقررہ حد سے کم بکنگ حاصل کرنے والی کمپنیوں کو غیر فعال قرار دیا جائے گا۔نئی پالیسی کے تحت ناکام قرار دی جانے والی کمپنیوں کی نصف سکیورٹی ضبط کی جائے گی اور ان کے حجاج کو خودکار نظام کے ذریعے دیگر اہل کمپنیوں میں منتقل کر دیا جائے گا تاکہ عازمینِ حج کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔پالیسی کے مطابق حج کمپنیوں کے لائسنس تین سال کے لیے جاری کیے جائیں گے۔

کوٹہ کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد ہوگی جبکہ کارٹل سازی اور اجارہ داری کے رجحانات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ترجمان نے کہا کہ پرائیویٹ حج آپریشنز مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت چلائے جائیں گے اور حج بکنگ صرف پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل (پی ایچ ایم پی) کے ذریعے کی جا سکے گی۔ یہ پورٹل نادرا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے منسلک ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دستی بکنگ اور نقد لین دین پر مکمل پابندی عائد ہوگی اور حج کمپنیاں حجاج کے فنڈز اپنے پاس نہیں رکھ سکیں گی۔ سعودی عرب میں خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو ادائیگیاں براہِ راست کی جائیں گی جبکہ تمام مالی معاملات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے انجام پائیں گے۔وزارتِ مذہبی امور کے مطابق نئی پالیسی سے شفافیت، احتساب اور حجاج کے مالی و انتظامی تحفظ کو مزید فروغ ملے گاجبکہ پاکستان کا پرائیویٹ حج نظام سعودی وژن 2030 کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو جائے گا۔