اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وفاقی کابینہ نے 2025 تک سٹرٹیجک تجارتی پالیسی فریم ورک (ایس ٹی پی ایف)کی منظوری دیدی، ایس ٹی پی ایف 25۔2020 کا مقصد پاکستانی اداروں کی صلاحیت کو بڑھانا ہے،مصنوعات اور خدمات کی پیداوار، تقسیم اور فروخت کو حریفوں کے مقابلے زیادہ مؤثر طریقے سے بڑھانا ہے۔ وزارت تجارت سے جاری بیان کے مطابق پالیسی کے تحت بین الاقوامی سطح پر جن اشیا و مصنوعات کی …
وفاقی کابینہ نے 2025 تک سٹرٹیجک تجارتی پالیسی فریم ورک کی منظوری دیدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وفاقی کابینہ نے 2025 تک سٹرٹیجک تجارتی پالیسی فریم ورک (ایس ٹی پی ایف)کی منظوری دیدی، ایس ٹی پی ایف 25۔2020 کا مقصد پاکستانی اداروں کی صلاحیت کو بڑھانا ہے،مصنوعات اور خدمات کی پیداوار، تقسیم اور فروخت کو حریفوں کے مقابلے زیادہ مؤثر طریقے سے بڑھانا ہے۔
وزارت تجارت سے جاری بیان کے مطابق پالیسی کے تحت بین الاقوامی سطح پر جن اشیا و مصنوعات کی طلب ہو گی ان شعبوں کی کارکردگی اور صلاحیت میں ترجیحی بنیادوں پر بہتری لائی جائے گی، ان شعبوں میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات، لیدر، آلات جراحی، کھیلوں کے سامان، قالین، چاول اور کٹلری کی برآمدات کو بہتر بنانا ہے، ترقیاتی برآمدی شعبوں میں انجینئرنگ کے سامان بشمول آٹو پارٹس، دواسازی، ماربل اور معدنیات شامل ہیں۔ پراسیس شدہ خوراک، مشروبات، جوتے، جواہرات اور زیورات، گوشت، پولٹری اور کیمیکل بھی شامل ہیں۔ پالیسی کا بنیادی مقصد مصنوعات کی بین الاقوامی سطح پر برآمدات کو بڑھانا ہے۔
پالیسی کے تحت ریجنل رابطہ کاری ، لک افریقہ اور سلک روٹ سے دوبارہ منسلک ہونا ہے۔ آزادانہ تجارت کے معاہدوں اور ترجیحی تجارتی معاہدوں کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کو بین الاقوامی سطح تک رسائی دینا ہے۔ وزیر اعظم کی سربراہی میں نیشنل ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ بورڈ پالیسی کی نگرانی کرے گا۔ ٹیرف ریشنلائزیشن کے ذریعے پیداواری لاگت میں کمی اوراشیاء کی عالمی مارکیٹ تک رسائی یقینی بنائی جائے گی۔








