اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) وفاقی کابینہ کے اراکین نے حکومت کی دو سالہ کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نئی نسل کے مستقبل کے امین ہیں، برآمدات میں اضافے سے مواقع بھی بڑھیں گے، گزشتہ حکومت نے مصنوعی طریقے سے ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کیا اور اس مد میں چھ ارب ڈالر خرچ کئے، حسابات جاریہ کا خسارہ 20 ارب سے …
وفاقی کابینہ کے اراکین کی حکومت کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے تیسرے روز پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) وفاقی کابینہ کے اراکین نے حکومت کی دو سالہ کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نئی نسل کے مستقبل کے امین ہیں، برآمدات میں اضافے سے مواقع بھی بڑھیں گے، گزشتہ حکومت نے مصنوعی طریقے سے ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کیا اور اس مد میں چھ ارب ڈالر خرچ کئے، حسابات جاریہ کا خسارہ 20 ارب سے کم ہو کر 3 ارب ڈالر تک آ گیا جو مشترکہ کوششوں سے ممکن ہوا، کوویڈ 19 سے پہلے جنوری اور فروری میں ملکی برآمدات ڈبل ڈجٹ پر آ گئی تھی، کوویڈ 19 کے حالات معمول پر آنے کے بعد مزید بہتری آئے گی، میک ان پاکستان کو سپورٹ کرنا ہماری ترجیح ہے، پانچ برآمدی شعبوں کو مراعات دیں اور بین الاقوامی نرخوں پر تیل اور گیس فراہم کی، کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 166 ویں درجے سے 108 ویں پر آ گیا ہے، سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک کی بھی منظوری ہو چکی ہے جس سے برآمدات میں اضافہ ہو گا، پاکستان تحریک انصاف پہلی سیاسی جماعت ہے جس نے گرین منشور دیا۔ وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے تحت صاف و سرسبز پاکستان کی تشکیل کے لئے حکومتی کوششوں کی کامیابی کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جارہا ہے، دس بلین ٹری سونامی‘ کلین گرین انڈیکس‘ الیکٹریکل وہیکل پالیسی‘ پلاسٹک بیگز پر پابندی اور حیاتیاتی تنوع کے لئے محفوظ علاقوں کے تحفظ و فروغ کے منصوبے شروع کرنا موجودہ حکومت کے انقلابی اقدامات دو سال میں اٹھائے گئے، وزیراعظم عمران خان نے تمام شعبوں میں اصلاحات کے عزم کے تحت وفاقی حکومت کے محکموں کی تعداد 440 سے کم کرکے 324 کی جا رہی ہے، کسی کو بے روزگار نہیں کرینگے، ملک کی بہتری کے لئے مشکل فیصلے کرنے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے اسی درد کے تحت قوم کا احساس کیا اور ملک میں مسافر خانے اور لنگر خانے قائم کئے، ہم سب عوام کے سامنے جوابدہ ہیں، قانون سازی کے عمل کو مزید فعال اور موثر بنانا چاہتے ہیں، توقع ہے کہ اپوزیشن سے قانون سازی کے حوالے سے ورکنگ ریلیشن شپ سے بہتری آئے گی، ملک میں منشیات اور منی لانڈرنگ کی لعنت پر موثر طور پر قابو پانے کے لئے دنیا کا سب سے بڑا ڈیٹا بینک تشکیل دیا گیا اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام سے متعلق معاہدے پر دستخط کئے گئے جس سے انسداد منشیات سمیت منی لانڈرنگ کی لعنت پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ جمعرات کو یہاں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد، مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل، چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین کے ہمراہ حکومت کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے تیسرے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ میڈیا کے شکر گزار ہیں جنہوں نے عزم کے ساتھ ہماری دو سالہ کارکردگی کو سنا اور وفاقی وزراءکی طرف سے وفاقی وزراءکی طرف سے پیش کی گئی کارکردگی کو کوریج فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش رہی ہے کہ تمام کابینہ کے اراکین یہاں پیش ہوں اور اپنی اپنی متعلقہ وزارت کی کارکردگی سے آگاہ کریں۔ طویل نشست کی وجہ سے صحافیوں کے سوالات بھی لئے گئے لیکن اس میں کچھ تشنگی رہی جس کے لئے ایک میکنزم اور ٹائم شیڈول جاری کریں گے تاکہ متعلقہ وزارتوں کے بیٹ رپورٹرز اپنے متعلقہ وزراءسے جواب طلب کر سکے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا ویژن ہے کہ عوامی نمائندے تمام اقدامات سے عوام کو ضرور آگاہ کریں اور اس سرگرمی کے انعقاد کا مقصد بھی یہی تھا اور یہ جمہوری حکومت کی ذمہ داری بھی بنتی ہے، وزیراعظم عمران خان نے نئی نسل کے مستقبل کے امین ہیں، مفاد پرستی اور اقرباءپروری کی سیاست آخری سسکیاں لے رہی ہے جس کی بازگشت اپوزیشن کی حالیہ پریس کانفرنسوں اور بیانات میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ دو سال میں ملک کو تبدیل تو نہیں کر سکتے لیکن ٹھوس اقدامات سے بہتری کی جانب گامزن ہوئے ہیں، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جب پانچ سال پورے کرے گی تو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ملک تبدیل ہو چکا ہو گا، معاشی حالات بہتر ہوں گے اور اس کے ثمرات عوام تک منتقل ہو رہے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ 19 جیسے بحران کے باوجود اشیاءضروریہ کی قلت پیدا نہیں ہونے دی، ذخیرہ اندوزی اور اشیاءکی قیمتیں زیادہ ضرور ہیں لیکن قیمتوں کو کم کر کے عوام ریلیف دینا ہماری ذمہ داری ہے، کوویڈ 19 میں کامیابیوں کے بعد اب اچھے دن آنا شروع ہو گئے ہیں، تجارت کو فروغ مل رہا ہے اور معاشی اشاریئے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ میڈیا کی صورتحال خراب ملکی معاشی صورتحال کی وجہ سے ہے، نجی شعبہ کے اشتہارات کے ساتھ ساتھ سرکاری اشتہارات میں بھی کمی ہوئی لیکن اب اقتصادی مشکلات گزر چکی ہیں اور اچھا وقت آنے والا ہے اور امید دلاتا ہوں جس طرح برآمدات بڑھ رہی ہیں، اسی طرح مواقع بھی بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ہاﺅسز کے 80 فیصد واجبات ادا کر چکے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ میڈیا اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک کابینہ کے بعض اراکین کی تبدیلیوں کا سوال ہے، ہماری ٹیم کا ایک کپتان ہے، کپتان جس کھلاڑی کو جہاں کھلانا چاہتا ہے یہ اس کا حق ہوتا ہے کہ وہ اس میں ردو بدل کرے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا چیئرمین رہ چکا ہوں، سٹریٹجک ٹرید پالیسی فریم ورک (ایس ٹی پی ایف) کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں آیا تھا لیکن اس کے بعد اس پر کوئی کام نہیں ہوا، اب یہ پالیسی وزیراعظم کو بھیج دی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ کوویڈ 19 کا بحران آیا تو اس نے پوری دنیا کی معیشت کو تہس نہس کر دیا لیکن ہم نے اپنی موثر حکمت عملی کے ساتھ ہمت نہیں ہاری اور دنیا کے مقابلے میں اپنی معاشی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کی جدوجہد کا محور ہمیشہ کمزور طبقات رہے ہیں اور اس کڑے وقت میں بھی دیہاڑی دار اور مزدور طبقے کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے سمارٹ لاک ڈاﺅن کی پالیسی اختیا رکی گئی، تعمیراتی شعبہ کے فروغ کے لئے اقدامات اٹھائے گئے تاکہ دیہاڑی دار اور مزدور طبقہ روزگار کما سکے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، ہم اداروں کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوکریاں دینا افضل ہوتا ہے لیکن نوکریاں فروخت کرنا نہیں، ماضی کی حکومتوں نے ملازمتیں فروخت کیں جس کی وجہ سے ادارے تباہ ہوئے اور اس حوالے سے ریڈیو، ٹی وی کی مثال سب کے سامنے ہے، معاشی سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا ہے، روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، میڈیا کو جب اشتہارات ملیں گے تو امید ہے کہ اس کے ثمرات میڈیا ورکرز تک بھی پہنچیں گے، ہم نے میڈیا انڈسٹری کے 80 فیصد واجبات ادا کر دیئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ ساتھ سائبر کرائمز بل کے نفاذ کے لئے بھی اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے مصنوعی طریقے سے ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کیا اور اس مد میں چھ ارب ڈالر خرچ کئے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی دنیا کو درپیش تین بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ پانچ ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں صورتحال کی سنگینی کا بروقت ادراک کرتے ہوئے نہ صرف گرین منشور پیش کیا بلکہ حکومت میں آنے کے بعد اس سلسلے میں تاریخی اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت نے پانچ بڑے منصوبے شروع کئے ہیں جو ماحولیات کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات میں کمی لانے کے لئے مددگار ثابت ہوں گی۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ دس بلین ٹری سونامی پراجیکٹ عظیم منصوبہ ہے تاہم اسے پورے ملک میں نافذ کرنے کے لئے تمام وفاقی اکائیوں کو اکٹھا کرنا ایک بڑا چیلنج تھا جس میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ وفاق اور صوبوں کے اشتراک سے پورے ملک میں نافذ کیا جارہا ہے۔ منصوبے کے تحت پچاس کروڑ درخت لگائے جاچکے ہیں جبکہ اگلے سال جون تک ایک ارب درخت لگانے کا ودف حاصل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہماری نرسریوں میں پانچ کروڑ پودے تھے اور اب یہ تعداد 30 کروڑ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلین گرین انڈیکس معاشرتی سوچ کی تبدیلی کا پروگرام ہے۔ صفائی نصف ایمان ہے اور یہ پروگرام اس تصور کو عام کرے گا۔ اس پروگرام کے تحت سبزے اور صفائی کے حوالے سے 35 اشاریے متعین کئے گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر اس پروگرام کو بیس شہروں میں متعارف کرایا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان‘ رواں ماہ اس انڈیکس کے نتائج کا اعلان کریں گے۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ حکومت نے آلودگی کے مسئلہ پر قابو پانے کے لئے گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کرنے کے لئے الیکٹرک وہیکل پالیسی متعارف کرائی ہے کیونکہ یہ 21 ویں صدی کی ضرورت ہے۔ پالیسی کے تحت گاڑیوں کو بتدریج بجلی پر منتقل کیا جائے گا جس سے گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں سے پیدا ہونے والی آلودگی میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماحول کو صاف رکھنے کے لئے موجودہ حکومت کا ایک اور انقلابی اقدام پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد کرنا تھا۔ اس کا آغاز وفاقی حکومت نے اسلام آباد سے کیا جس کی تقلید کرتے ہوئے صوبوں نے بھی قانون سازی کرکے پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد کی۔ اس اقدام کے حوصلہ افزاءنتائج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروٹیکٹڈ ایریاز کا تحفظ اور ان کا فروغ حیاتیاتی تنوع کے لئے بہت اہم ہے۔ موجودہ حکومت نے اس سلسلے میں محفوظ علاقوں کی تعداد 39 تک بڑھا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کاوشوں سے پاکستان نے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت کلائمیٹ ایکشن کا ہدف مقررہ مدت سے دس سال پہلے حاصل کرلیا ہے۔ پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی کے شعبہ میں کامیابیوں کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے۔ پاکستان ماحولیات کے تحفظ کے حالے سے عالمی فنڈنگ کے حصول میں بھی کامیاب رہا ہے۔ اس موقع پر وزیر مملکت زرتاج گل نے حکومتی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے کلین گرین پاکستان پروگرام کے تحت کورونا کی وباءکے دوران روزاانہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کے معاشی تحفظ کے لئے گرین روزگار کی فراہمی کے پروگرام کو آگے بڑھایا ۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 85 ہزار گرین روزگار فراہم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات کے شعبہ میں پاکستان نے دو سال کے دوران جو کامیابیاں حاصل کی ہیں گزشتہ ستر برسوں میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کی اہمیت کے پیش نظر اس موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بنانے ‘ زمین انحطاط پذیری کو روکنے ‘ قابل استعمال پانی کی سطح بڑھانے اور گرین روزگار متعارف کرانے کے منصوبے بھی حکومتی کامیابیوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صاف اور سرسبز بنانے کے لئے وزیراعظم عمران خان کے مشن کو جاری رکھیں گے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ بدقسمتی سے گورننس کے نظام میں میرٹ اور شفافیت پر سمجھوتہ ہوگیا ہے اصلاحات پیکیج کا مقصد تمام شعبوں کی کارکردگی میں اضافہ کرنا ہے وزیراعظم عمران خان نے تمام شعبوں میں اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا ہے، وفاقی حکومت کے سرکاری محکموں کی تعداد 440 سے کم کرکے324 کی جارہی ہے جبکہ سرکاری محکموں میں ایک سال سے خالی 71 ہزار سے زائد آسامیاں ختم کر دی گئی ہیں۔وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ عام آدمی کی مشکلات کا جلد حل اور ریلیف فراہم کرنا وزیراعظم کا مشن ہے 25 سالوں کی خرابیوں کو دور کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ آٹو میشن سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا اور مسائل جلد حل ہوں گے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے سرکاری محکموں کی تعداد 440 سے کم کرکے 324 کی جارہی ہے وفاقی محکموں میں ایک سال سے خالی 71 ہزار سے زائد فالتو آسامیاں ختم کر دی گئی ہیں۔وزیراعظم کے مشیر برائے اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ اداروں کی کارکردگی بڑھانے کے لیئے اقدامات جاری ہیں ملازمین کی سالانہ کارکردگی جانچنے کے طریقہ کار کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کی اگلے گریڈ میں ترقی کی بنیاد صرف کارکردگی ہو گی۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ گھر گھر عمران خان اور تحریک انصاف کا پیغام پہنچانے میں میڈیا کردار انتہائی اہم ہے جس کے لئے ہم شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے ذہن میں سیاست میں آنے سے پہلے حکومت کا تاثر یہی تھا کہ ہم ملک کے بارے میں سوچیں اور عوام کا درد محسوس کریں، اس لئے میں نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ جدوجہد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور سیاست میں آیا، ہم نے مشکل فیصلے کرنے ہیں اور صرف اور صرف پاکستان کے بارے میں سوچنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وہ ہوتی ہے جس کے دل میں عوام کا درد ہو، عمران خان نے قوم کا احساس کیا اور اس حوالے سے احساس پروگرام کے تحت ملک میں مسافر خانے اور لنگر خانے قائم کئے۔ انہوں نے کہا کہ اس پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم سب عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے مجھے جب وزارت پارلیمانی امور کا قلمدان سونپا تو ساتھ یہ بھی کہا کہ پہلے پہل مشکل پیش آئے گی لیکن پھر آسانی ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوامی لوگ ہیں، ہر وقت ہم سے ہمارے اثاثوں کی تفصیلات سمیت ہماری کارکردگی کے بارے میں سوال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے اور تمام وزارتوں کی ماں وزارت پارلیمانی امور ہے کیونکہ تمام وزارتوں نے پارلیمانی امور کے ذریعے ہی قانون سازی کرنا ہوتی ہے، شروع شروع میں ایوان کے اندر میں نے وزارت خارجہ، ریلویز اور دیگر وزارتوں کے بھی جوابات دیئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد ہمارا اصل مقابلہ سٹیٹس کو اور کرپشن سے تھا، ایسے ماحول میں ہمیں حکومت ملی جہاں ایک طرف اپوزیشن کے لوگ گرفتار ہو رہے تھے، ان حالات میں پارلیمنٹ کو چلانا مشکل کام تھا، میں اپنی کارکردگی کی بات نہیں کرتا، پارلیمنٹ کو آگے بڑھانے میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، اعظم خان سواتی سمیت دیگر اکابرین نے انتہائی احسن کردار ادا کیا اور اب بابر اعوان صاحب بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے ترک صدر کا خطاب بھی بہت اہمیت کا حامل ہے، قومی ایشوز پر قومی اسمبلی میں قانون سازی کی شروع کے ڈیڑھ دو سالوں میں قانون سازی کا عمل سست روی کا شکار رہا لیکن پھر بھی دوسرے پارلیمانی سال میں 48 بل متعارف کرائے گئے اور کورونا کی صورتحال کے باوجود ہم نے پارلیمانی سال کے 133 دن پورے کئے، اسی طرح سینیٹ میں 26 سیشن ہوئے اور مجموعی طور پر پارلیمانی سال کے 265 دن پورے کئے، سینیٹ میں 73 بل متعارف ہوئے، 46 بل منظور کئے گئے اور 34 آرڈیننسز ایوان میں پیش کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے مدینہ کی ریاست کی بات کی ہے جو میرے دل کے قریب اور میری زندگی کا مقصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے حضور نبی پاک کے خاتم النبیین کے حوالے سے قرارداد پیش کی جس میں تمام درسی کتب میں آپ کے نام مبارک کے ساتھ خاتم النبیین لکھنے کو لازمی قرار دیا گیا، اس سے فتنہ قادنیت کا سدباب ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے معاملے پر سر عام پھانسی دینے کی قرارداد بھی منظور ہوئی، وزیراعظم عمران خان نے تمام یونیورسٹیوں پر لازمی قرار دیا ہے کہ قرآن پاک کی اردو ترجمہ کے ساتھ تعلیم لازمی دی جائے گی اس کے بغیر کوئی ڈگری نہیں دی جائے گی، اسی طرح میٹرک کے طلباءکو بھی قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ علی محمد خان نے کہا کہ شروع دنوں میں ہمیں اپوزیشن کی طرف سے مخاصمت کا سامنا تھا مگر اب اپوزیشن کے شکرگزار ہیں، ایف اے ٹی ایف کی بقیہ قانون سازی پر بھی اتفاق ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوتا، وہ زیادہ وقت وزیراعظم شکایات ونگ میں گزارتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اسلام آباد نہیں آ سکتے تھے ہم ان کے پاس چل کر مردان، چکوال، اٹک، صوابی، نوشہرہ، کوئٹہ گئے، مگر سب سے زیادہ خوشی اس بات پر ہوئی جب کوئٹہ میں ہماری اس سلسلے میں لوگوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے بلوچستان کے لوگوں کا بھی حال پوچھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شکایات سیل میں کے پی کے، گلگت بلتستان، اسلام آباد سمیت دیگر صوبوں کی طرف سے شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 77 فیصد کا ازالہ کر دیا گیا ہے صرف 11 ہزار شکایات باقی رہ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم قانون سازی کے عمل کو مزید فعال اور بہتر بنانا چاہتے ہیں، ہماری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے، ہم جو بھی بات کرتے ہیں ملک کے لئے کرتے ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں اپوزیشن سے قانون سازی کے حوالے سے ورکنگ ریلیشن شپ میں مزید بہتری آئے گی۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں آئی تو برآمدات میں کمی کا بڑا چیلنج درپیش تھا، تجارتی خسارے کے چیلنج پر قابو پانا بھی اہم مسئلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے پہلے برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، معاشی ترقی کے لئے برآمدات اضافہ ضروری ہے، حکومت نے برآمدات کے فروغ کے لئے جامع حکمت عملی مرتب کی۔ انہوں نے کہا کہ پانچ بڑے برآمدی شعبوں کے لئے مراعاتی پیکج کا اعلان کیا گیا، ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کے لئے ای کامرس پالیسی مرتب کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جولائی کی طرح آئندہ مہینوں میں بھی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے لئے پاکستان کا نمبر 166 ویں درجے سے 108 ویں پر آ گیا ہے اور پوری دنیا نے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای کامرس کی ذمہ داری کی طرف جا رہے ہیں اور وزارت تجارت کو ای کامرس پر لے جانے کے لئے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں جس کا ماضی میں فقدان رہا ہے، جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم کا قانون قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا ہے، یہ بہت اہم قانون ہے جس کے ذریعے دنیا بھر میں کہیں بھی ہماری مقامی مصنوعات کا نام استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ ہو گیا ہے، کوویڈ 19 کی وجہ سے اس پر پیش رفت نہیں ہو سکی لیکن اس کیفیت سے نکلنے کے بعد جلد ثمرات آنا شروع ہو جائیں گے، سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک کی بھی منظوری ہو چکی ہے جس کا مقصد برآمدات میں اضافہ اور تجارتی سرگرمیوں کو کثیر الجہت بنانا ہے۔ مشیر تجارت نے کہا کہ ہماری آم کی تجارت اس وقت دنیا میں بہترین رہی ہے اور 80 ہزار ٹن برآمد کرنے کی توقع تھی لیکن ایک لاکھ 25 ہزار ٹن آم برآمد ہوا جو حوصلہ افزاءہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی کے مہینے میں بھی ہماری برآمدات کوویڈ کے باوجود بہت بہتر رہیں، ایکس چینج ریٹ کو بھی حقیقی ایکس چینج کی طرف لے کر آئے ہیں تاکہ کرنسی کی بنیادی قدر کو درست رکھا جا سکے، ماضی میں سابقہ حکومت نے مصنوعی طریقے سے ڈالر کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے معیشت کو نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ خام مال کی درآمد کو مکمل ڈیوٹی فری کیا جا رہا ہے تاکہ صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو۔ وزیر مملکت برائے انسداد منشیات و چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے کہا کہ ملک میں منشیات اور منی لانڈرنگ کی لعنت پر موثر طور پر قابو پانے کے لئے دنیا کا سب سے بڑا ڈیٹا بینک تشکیل دیا گیا اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام سے متعلق معاہدے پر دستخط کئے گئے جس سے انسداد منشیات سمیت منی لانڈرنگ کی لعنت پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام الناس میں منشیات سے متعلق آگاہی کے لئے ’زندگی‘ کے نام سے ایپلی کیشن متعارف کرائی گئی ہے جسے عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ وزارت صحت اور اقوام متحدہ کے منشیات کنٹرول ادارے اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پارلیمانی سٹڈیز کے اشتراک سے منشیات کی نگرانی کا ایک طریقہ کار تشکیل دیا گیا ہے جسے عادی افراد کی بحالی کے علاوہ نجی منشیات کنٹرول کے مراکز پر نظر رکھنے میں مدد ملے گی۔








