ویمن پارلیمنٹری کاکس کا بلوچستان میں تیزاب گردی کی روک تھام کیلئے قانون سازی تیز کرنے کا فیصلہ

بلوچستان ویمن پارلیمانی کاکس نے زور دیا ہے کہ تیزاب گردی کے واقعات کی موثر روک تھام، تیزاب اور دیگر ضرر رساں کیمیائی مادوں کی فروخت اور استعمال کو منظم کرنے، مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور متاثرین کو موثر معاونت اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک جامع اور مضبوط صوبائی قانون ناگزیر ہے۔

کوئٹہ۔ 15 جون (اے پی پی):بلوچستان ویمن پارلیمانی کاکس نے زور دیا ہے کہ تیزاب گردی کے واقعات کی موثر روک تھام، تیزاب اور دیگر ضرر رساں کیمیائی مادوں کی فروخت اور استعمال کو منظم کرنے، مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور متاثرین کو موثر معاونت اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک جامع اور مضبوط صوبائی قانون ناگزیر ہے۔

ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی بلوچستان کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس میں صوبے میں تیزاب گردی کے واقعات کی روک تھام، قانون سازی اور متاثرین کی بحالی سے متعلق اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس کی صدارت غزالہ گولہ، ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی اور چیئرپرسن ویمن پارلیمنٹری کاکس (ڈبلیو پی سی )نے کی۔ اجلاس میں ویمن کاکس کی اراکین راحیلہ حمید خان درانی، شاہدہ رئوف، فرح عظیم شاہ، کلثوم نیاز، سلمی کاکڑ، شہناز عمرانی، جسٹس (ر)کیلاش ناتھ کوہلی، محکمہ داخلہ اور محکمہ قانون کے نمائندگان،یو این ویمن کے نمائندگان جبکہ صوبائی اسمبلی بلوچستان کے اسپیشل سیکرٹری عبدالرحمن نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران جسٹس (ر)کیلاش ناتھ کوہلی نے پاکستان میں تیزاب گردی اور تیزاب سے متعلق جرائم کے حوالے سے موجود قانونی فریم ورک پر جامع بریفنگ دی۔

انہوں نے شرکا کو سال 2016 میں تیار کیے گئے مجوزہ صوبائی قانون کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ محکمہ داخلہ کے نمائندگان نے بلوچستان میں تیزاب گردی کے واقعات سے متعلق سرکاری اعداد و شمار اجلاس کے سامنے پیش کیے اور بتایا کہ سال 2021 سے اب تک صوبے میں تیزاب پھینکنے کے سات مقدمات درج کیے گئے، جبکہ سال 2022 میں پانچ واقعات نمٹا دیئے گئے۔تفصیلی مشاورت کے بعد شرکا نے متفقہ طور پر ایک مشترکہ جائزہ کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا، جو موجودہ مسودہ قانون کا جائزہ لے گی اور اس میں تیزاب کی ضابطہ کاری، متاثرین کے تحفظ، بحالی، معاوضے اور ادارہ جاتی ردعمل کے موثر طریقہ کار سے متعلق دفعات شامل کرے گی۔

اجلاس میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ آئندہ مشاورتی اجلاس میں محکمہ صنعت، محکمہ صحت, محکمہ پراسیکیوشن، ترقی نسواں محکمہ قانون، سینئر وکلا محکمہ داخلہ اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندگان کو مدعو کیا جائے تاکہ وہ مجوزہ قانون سازی کو مزید موثر بنانے کے لیے اپنی آرا اور سفارشات پیش کر سکیں۔شرکا نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مجوزہ بل کے تحت قائم کیے جانے والے بورڈ کی تشکیل کا ازسر نو جائزہ لیا جائے اور اس میں ویمن پارلیمنٹری کاکس (ڈبلیو پی سی ) سمیت دیگر متعلقہ فریقین کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ مزید برآں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ محکمہ داخلہ سے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے اراکین کو آئندہ مشاورتی عمل میں شامل کیا جائے تاکہ قانون سازی کے حوالے سے وسیع تر اتفاقِ رائے اور بہتر رابطہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ تیزاب گردی کے واقعات کی موثر روک تھام، تیزاب اور دیگر ضرر رساں کیمیائی مادوں کی فروخت اور استعمال کو منظم کرنے، مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور متاثرین کو موثر معاونت اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک جامع اور مضبوط صوبائی قانون ناگزیر ہے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرپرسن غزالہ گولہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان ایسے قوانین کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی جو کمزور اور متاثرہ طبقات کے تحفظ، انصاف کے فروغ اور بلوچستان میں ہر قسم کے تشدد کے خلاف موثر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔