ویٹ لینڈز کا تحفظ موسمیاتی تبدیلی،ماحولیاتی تباہی ومعاشی عدم تحفظ کیخلاف مضبوط دفاع ہے، سیف الرحمن

لاہور۔8فروری (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبی دلدلی علاقوں یا ویٹ لینڈز کا تحفظ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تباہی ومعاشی عدم تحفظ کے خلاف ایک مضبوط اور عملی دفاع ہے۔اتوار کے روز لاہور میں عالمی یومِ ویٹ لینڈز کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر ویٹ لینڈز کو نظر انداز کیا گیا تو ملک کو مستقبل …

لاہور۔8فروری (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبی دلدلی علاقوں یا ویٹ لینڈز کا تحفظ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تباہی ومعاشی عدم تحفظ کے خلاف ایک مضبوط اور عملی دفاع ہے۔اتوار کے روز لاہور میں عالمی یومِ ویٹ لینڈز کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر ویٹ لینڈز کو نظر انداز کیا گیا تو ملک کو مستقبل میں مزید شدید قدرتی آفات اور ماحولیاتی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ویٹ لینڈز پر تجاوزات کے خلاف قوانین پر موثر عمل درآمد یقینی، ماحولیاتی اثرات کے جائزوں کو شفاف اور آبی دلدلی علاقوں کے تحفظ کو صوبائی لینڈ یوز منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ سیف الرحمن نے انڈس ڈیلٹا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں مینگرووز کے طویل المدتی تحفظ کے لیے دریا کے قدرتی ماحولیاتی بہائو کی بحالی نہایت ضروری ہے، مینگرووز ساحلی دفاع کی پہلی لائن اور ان کی بقا براہِ راست ساحلی آبادیوں کے تحفظ سے جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بار بار تباہ کن سیلابوں کی زد میں آ چکا ہے، اس کے باوجود ویٹ لینڈز کی بحالی کو آفات سے نمٹنے کی منصوبہ بندی میں وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کی ضرورت ہے۔ ساحلی علاقوں کے علاوہ ملک کے دیگر ویٹ لینڈز کی حالت زار پر بات کرتے ہوئے سیف الرحمن نے کہا کہ شہری تجاوزات، صنعتی فضلہ، ٹھوس کچرے کا بے دریغ استعمال اور ناقص منصوبہ بندی پر مبنی انفراسٹرکچر منصوبوں نے منچھر اور ہالیجی جیسی اہم جھیلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بالائی علاقوں میں پانی کے رخ موڑنے اور بارشوں کے غیر متوقع انداز نے دریائوں کے قدرتی بہائو کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں ماحولیاتی نظام تباہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان عوامل کے باعث حیاتیاتی تنوع میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے، خصوصا مہاجر پرندوں کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، جو کبھی ان ویٹ لینڈز کو اپنا مسکن بناتے تھے۔

سیف الرحمن نے کہا کہ مینگرووز محض خوبصورتی کے لیے موجود درخت نہیں بلکہ ایک زندہ انفراسٹرکچر ہیں،یہ درخت سمندری طوفانوں اور اونچی لہروں کے اثرات کو کم کرتے، ساحلی کٹا ئوکو روکتے، بڑی مقدار میں کاربن ذخیرہ کرتے اور ماہی گیری کے شعبے کو سہارا دیتے ہیں، جس پر سندھ میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار منحصر ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ ویٹ لینڈز ہمیں اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پاکستان کے قیمتی قدرتی اثاثے، جن میں مینگرووز، جھیلیں، دلدلی علاقے اور دریائی سیلابی میدان شامل ہیں، خاموشی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں جبکہ موسمیاتی اثرات دن بدن شدید ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اب یہ معاملہ صرف ماحولیاتی تحفظ کا نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال بن چکا ہے۔