ویکسین گودام کی سولرائزیشن اور تزئین و آرائش پاکستان کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے،ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی آئی

اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی آئی ڈاکٹر موسیٰ خان نے کہا ہے کہ ویکسین گودام کی سولرائزیشن اور تزئین و آرائش پاکستان کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک دہائی قبل اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب پینٹاویلنٹ ویکسین کی چار لاکھ خوراکیں زائد …

اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی آئی ڈاکٹر موسیٰ خان نے کہا ہے کہ ویکسین گودام کی سولرائزیشن اور تزئین و آرائش پاکستان کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک دہائی قبل اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب پینٹاویلنٹ ویکسین کی چار لاکھ خوراکیں زائد المعیاد ہو گئیں۔ اس تناظر میں توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (ای پی آئی) کے مرکزی گودام میں کولڈ چین کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے حال ہی میں وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن (ایف ڈی آئی) کے گودام میں ایک میگاواٹ سولر پاور سسٹم نصب کر دیا گیا ہے جس کا افتتا ح وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کیا۔یہ نظام یونیسف کے تعاون سے نصب کیا گیا ہے تاکہ پاکستان میں صحت کے نظام کو پائیدار اور مضبوط بنایا جا سکے۔

اس سے ہنگامی حالات یا بجلی کی بندش کے دوران بھی ویکسین محفوظ رہیں گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد قومی کولڈ چین نظام کو مزید مستحکم بنانا اور جان بچانے والی ویکسینز کی بلا تعطل محفوظ ذخیرہ اندوزی کو یقینی بنانا ہے۔ کولڈ چین کا تسلسل برقرار رکھنا ملک بھر میں لاکھوں بچوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ منصوبے کی تکمیل میں گاوی اور دیگر بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کا تعاون حکومتِ پاکستان اور ترقیاتی اداروں کے درمیان مؤثر اشتراک کی عمدہ مثال ہے ۔ ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی آئی ڈاکٹر موسیٰ خان نے کہا کہ ویکسین گودام کی سولرائزیشن اور تزئین و آرائش پاکستان کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

ان کے مطابق کولڈ چین کی مسلسل نگرانی اور برقرار رکھنا لاکھوں بچوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے اور یہ سہولت ہر طرح کے حالات میں ویکسین کی افادیت کو برقرار رکھنے میں مدد دے گی۔یونیسف پاکستان کے چیف ہیلتھ ڈاکٹر گنٹر بوسری نے کہا کہ یونیسف پاکستان کے کولڈ چین نظام کو مضبوط بنانے میں معاونت پر فخر محسوس کرتا ہے۔ ان کے مطابق پائیدار شمسی توانائی کے حل متعارف کرا کے نہ صرف ویکسینز کو محفوظ بنایا جا رہا ہے بلکہ ملک کے بچوں کے صحت مند مستقبل میں بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ مارچ 2015 میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں 13 لاکھ ڈالر مالیت کی پینٹاویلنٹ ویکسین خراب ہو گئی تھی۔

یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب اس وقت کی سینیٹر اور وزیر اعظم کی پولیو سے متعلق فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق کو ایک ای میل موصول ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ سٹور روم میں درجہ حرارت میں تبدیلی کے باعث ویکسین ضائع ہو گئی ہیں۔ مذکورہ ای میل کی نقول عالمی ادارۂ صحت اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو بھی ارسال کی گئی تھیں۔معائنے کے دوران ای میل میں دی گئی معلومات درست پائی گئیں اور ویکسین وائل مانیٹر (VVM) کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا۔ بعد ازاں وزارتِ صحت کے حکام نے بتایا کہ اسٹور روم میں نصب ایئر کنڈیشننگ یونٹ کو باہر سے بند کر دیا گیا تھا جس کے باعث درجہ حرارت میں تبدیلی آئی اور ویکسین خراب ہو گئیں۔