ٹائم سکیل پروموشن ملازمین کا قانونی حق نہیں، پالیسی پر مبنی رعایت ہے، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ ٹائم سکیل پروموشن کوئی باقاعدہ سروس پروموشن یا ملازمین کا قانونی حق نہیں بلکہ ایک پالیسی پر مبنی رعایت ہے، جس کا اطلاق صرف انہی ملازمین پر ہو سکتا ہے

اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ ٹائم سکیل پروموشن کوئی باقاعدہ سروس پروموشن یا ملازمین کا قانونی حق نہیں بلکہ ایک پالیسی پر مبنی رعایت ہے، جس کا اطلاق صرف انہی ملازمین پر ہو سکتا ہے جو متعلقہ پالیسی کے دائرہ کار میں آتے ہوں۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دائر سول پٹیشن منظور کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹریبونل کا 23 جنوری 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق وفاقی سروس ٹریبونل نے محکمہ کے ایک ملازم سید سردار احمد پیرزادہ کی اپیل منظور کرتے ہوئے محکمہ کو ہدایت کی تھی کہ ان کے بی ایس-19 میں اینٹی ڈیٹڈ ٹائم سکیل پروموشن کے کیس پر موجودہ پالیسی کے تحت غور کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹریبونل نے یہ فرض کر لیا تھا کہ متعلقہ پالیسی محکمہ پر لاگو ہوتی ہے، حالانکہ اس امر کا قانونی طور پر تعین نہیں کیا گیا تھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ محض طویل عرصہ ملازمت انجام دینے یا کسی مخصوص مدت کی تکمیل سے کسی ملازم کو ٹائم سکیل پروموشن کے لیے زیر غور لائے جانے کا حق حاصل نہیں ہو جاتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ملازم واضح طور پر یہ ثابت کرے کہ وہ متعلقہ پالیسی کے دائرہ کار میں آتا ہے اور اسے قانوناً اس پالیسی سے فائدہ اٹھانے کا استحقاق حاصل ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں سابقہ عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ’’ٹائم اسکیل پروموشن‘‘ کی کوئی تعریف موجود نہیں، اس لیے اسے ملازمت کی شرائط کا حصہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

یہ ایک پالیسی بنیاد پر دیا جانے والا فائدہ ہے جس کا مقصد ایسے مخصوص کیڈرز کو اعلیٰ پے اسکیل کا مالی فائدہ دینا ہوتا ہے جن کے لیے ترقی کے مواقع محدود ہوں۔سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ ٹائم سکیل کا حصول باقاعدہ ترقی کے مترادف نہیں ہوتا کیونکہ اس سے نہ عہدے کا نام تبدیل ہوتا ہے، نہ ہی اسامی اپ گریڈ ہوتی ہے اور نہ ہی بھرتی و ترقی کے قواعد میں کوئی ترمیم درکار ہوتی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ جب تک کسی ملازم کا متعلقہ پالیسی کے تحت استحقاق واضح طور پر ثابت نہ ہو جائے، اس کے حق میں ٹائم سکیل پروموشن دینے یا اس پر غور کرنے کی ہدایت بھی جاری نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ وفاقی سروس ٹریبونل کا فیصلہ قانون کے مطابق برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے سول پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا اور وفاقی سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔