ٹانک میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کے بعد شدید غم و غصہ، عوام کا دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ

منچی خیل سکیورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے کے بعد ٹانک اور دیگر ملحقہ اضلاع کے عوامی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس حملے میں متعدد سکیورٹی اہلکاروں اور محکمہ جنگلات خیبر پختونخوا کے ایک ملازم نے جان کی قربانی دی جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ مہلک حملہ خیبر پختونخوا میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر …

محمد عامر

ٹانک۔ 24 جولائی (اے پی پی):منچی خیل سکیورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے کے بعد ٹانک اور دیگر ملحقہ اضلاع کے عوامی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس حملے میں متعدد سکیورٹی اہلکاروں اور محکمہ جنگلات خیبر پختونخوا کے ایک ملازم نے جان کی قربانی دی جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ مہلک حملہ خیبر پختونخوا میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حالیہ دہشت گرد حملوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے بعد صوبے کے جنوبی اضلاع میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر ایک بار پھر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں، سیاسی رہنماؤں، سکیورٹی ماہرین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے دہشت گردی کے خاتمے کےلیے جامع اور فیصلہ کن حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وفاقی حکومت کے ساتھ مؤثر تعاون اور رابطہ بڑھائے تاکہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

ٹانک پولیس کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بھاری ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں نے ڈیرہ اسماعیل خان۔ٹانک روڈ پر واقع منچی خیل چیک پوسٹ سے بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا اور چیک پوسٹ کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا۔ دھماکے میں 15 افراد شہید ہوئے جن میں 12 فوجی، دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری ملازم شامل ہے۔ شہداء کی شناخت پولیس کانسٹیبل طلا محمد، بلال اور محکمہ جنگلات کے ملازم نور اعظم کے ناموں سے ہوئی جبکہ جوابی کارروائی میں 12 دہشت گرد بھی ہلاک کر دیے گئے۔ حکام کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کا سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔ مزید نفری علاقے میں پہنچائی گئی اور باقی ماندہ دہشت گردوں کے خاتمے اور علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ سکیورٹی اداروں نے حملے کی منصوبہ بندی، سہولت کاروں اور لاجسٹک معاونت کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں اس حملے پر ضلع ٹانک میں شدید عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں نے شہداء کے خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے دہشت گردی کے فوری خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ سابق صوبائی وزیر واجد علی خان نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاستی اداروں کو کمزور کرنے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی ایک منظم دہشت گرد مہم کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد جان بوجھ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اور سول انتظامیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں کیونکہ یہی ادارے ریاستی رٹ کی علامت ہیں۔

پاکستان دشمن عناصر جنوبی خیبر پختونخوا کے پرامن اضلاع کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہیں گے کیونکہ عوام اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان، سرکاری ملازمین اور پولیس اہلکار اس لیے دہشت گردوں کا خاص ہدف بن رہے ہیں کیونکہ وہ انتہا پسند نظریات کی مزاحمت کرتے ہوئے امن اور ترقی کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر زاہد انور نے اس حملے کو اس بات کی تلخ یاد دہانی قرار دیا کہ دہشت گردی اب بھی پاکستان کے امن اور استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندی سماجی تقسیم، معاشی محرومی، نظریاتی انتہا پسندی اور غلط معلومات سے تقویت حاصل کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ غربت اور بے روزگاری کئی ممالک میں موجود ہیں لیکن جہاں شرح خواندگی کم اور شعور محدود ہو، وہاں انتہا پسند عناصر نوجوانوں کو آسانی سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگار نوجوان محدود تعلیمی اور معاشی مواقع کی وجہ سے انتہا پسند پروپیگنڈے کا آسان شکار بن جاتے ہیں، لہٰذا تعلیم، صنعت، بنیادی ڈھانچے، فنی تربیت اور سماجی شمولیت میں سرمایہ کاری اتنی ہی ضروری ہے جتنی سکیورٹی اداروں کو مضبوط بنانا۔ سابق انسپکٹر جنرل پولیس اور سابق سیکرٹری داخلہ خیبر پختونخوا ڈاکٹر اختر علی شاہ نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو علاقائی سکیورٹی چیلنجز اور بیرونی سرپرستی یافتہ عناصر سے جوڑا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مخالف خفیہ ایجنسیاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت مختلف دہشت گرد گروہوں کو استعمال کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور اس کی معاشی ترقی روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی ترقی نے دشمن قوتوں کو بے چین کر دیا ہے جو پاکستان کو خوشحال نہیں دیکھنا چاہتیں۔ انہوں نے حالیہ دہشت گرد حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے بظاہر قومی استحکام کو نقصان پہنچانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی منظم کوشش کا تاثر ملتا ہے۔ ڈاکٹر اختر علی شاہ نے افغانستان کی سرحد پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی امن کے لیے افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے وفاقی حکومت، خیبر پختونخوا حکومت، انٹیلی جنس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان قریبی اور مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ سنٹر فار کانفلکٹ اینڈ ریجنل اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد جمیل نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے غربت، بے روزگاری اور دیگر سماجی و معاشی مسائل کا حل ضروری ہے جن سے انتہا پسند عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب نوجوانوں کو روزگار اور ترقی کے مواقع میسر نہیں ہوتے تو شدت پسند تنظیمیں انہیں انتہا پسند بیانیے کے ذریعے اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں تعلیم، صنعت، زراعت، لائیو اسٹاک، بنیادی ڈھانچے، اعلیٰ تعلیم، روزگار اور سماجی بہبود کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں روایتی حجرہ کلچر، کھیلوں کے میدان، ثقافتی میلوں، سینما گھروں اور دیگر مثبت سماجی سرگرمیوں کی بحالی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے نوجوانوں کو معاشرے سے جوڑنے اور انتہا پسندی سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر جمیل نے اساتذہ، علمائے کرام، سول سوسائٹی اور منتخب عوامی نمائندوں کو برداشت، پرامن بقائے باہمی اور آئینی اقدار کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا نوشہرہ کے صدر صاحبزادہ حمزہ خان نے کہا کہ دہشت گرد حملوں میں مسلسل اضافہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ صوبائی سطح پر واضح، مستقل اور مؤثر انسداد دہشت گردی پالیسی اختیار کی جائے۔انہوں نے کہا کہ زمینی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے دہشت گردوں سے مذاکرات جیسے مبہم یا سیاسی بیانیوں کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ انہوں نے 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور سانحے کے بعد نافذ کیے گئے نیشنل ایکشن پلان ، نیکٹا کی مضبوطی، انسداد دہشت گردی عدالتوں کے قیام اور بہتر انٹیلی جنس تعاون کو دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کرنے میں مؤثر قرار دیا۔انہوں نے طلبہ کے لیے وظائف، لیپ ٹاپ اسکیموں اور آسان قرضوں جیسے منصوبوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا شدت پسند تنظیموں کی بھرتی روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور گردونواح کے رہائشیوں نے بھی خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ حساس تنصیبات کی سکیورٹی مزید مضبوط بنائی جائے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو بہتر بنایا جائے اور حملے کے ذمہ دار عناصر کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔شہریوں نے سکیورٹی اہلکاروں اور دیگر سرکاری ملازمین کی قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جو مسلسل خطرات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا اتفاق تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مؤثر خاتمے کے لیے مضبوط انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے ساتھ ساتھ تعلیم، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور سماجی ہم آہنگی میں مستقل سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

انہوں نے برداشت، تنقیدی سوچ اور شہری ذمہ داری کے فروغ پر مبنی یکساں قومی نصاب نافذ کرنے، قبائلی اور دور دراز علاقوں کی تیز رفتار ترقی، نوجوانوں کے لیے فنی تربیت اور روزگار کے مواقع بڑھانے، اور ہتھیار چھوڑنے والے افراد کی مؤثر نگرانی کے ساتھ بحالی پر بھی زور دیا۔ ڈاکٹر زاہد انور نے کہا کہ دہشت گردی وہاں پروان چڑھتی ہے جہاں معاشرہ نسلی، سیاسی اور سکیورٹی مسائل پر تقسیم ہو جبکہ متحد معاشروں میں دہشت گردی کمزور پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مضبوط تعاون پر مبنی فعال، جامع اور مربوط قومی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ماہرین نے امید ظاہر کی کہ ٹانک حملے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر بھرپور توجہ دیں گے اور وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے صوبے میں دیرپا امن قائم کریں گے۔