ٹڈی دل کے سدباب کے لئے مجموعی طور پر 4 لاکھ 49 ہزار 145 ہیکٹر رقبہ پر سپرے کیا جاچکا ہے‘ پنجاب میں 2.6 فیصد رقبہ ٹڈی دل سے متاثر ہوا ہے‘ باقی صوبوں سے رپورٹ کا انتظار ہے،وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے قومی اسمبلی میں جواب

اسلام آباد ۔ 20 جولائی (اے پی پی) وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ ٹڈی دل کے سدباب کے لئے مجموعی طور پر 4 لاکھ 49 ہزار 145 ہیکٹر رقبہ پر سپرے کیا جاچکا ہے‘ پنجاب میں 2.6 فیصد رقبہ ٹڈی دل سے متاثر ہوا ہے‘ باقی صوبوں سے رپورٹ کا انتظار ہے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات …

اسلام آباد ۔ 20 جولائی (اے پی پی) وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ ٹڈی دل کے سدباب کے لئے مجموعی طور پر 4 لاکھ 49 ہزار 145 ہیکٹر رقبہ پر سپرے کیا جاچکا ہے‘ پنجاب میں 2.6 فیصد رقبہ ٹڈی دل سے متاثر ہوا ہے‘ باقی صوبوں سے رپورٹ کا انتظار ہے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران سید حسنین طارق کے سوال کے جواب میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے بتایا گیا کہ ٹڈی دل کا پہلا بڑا حملہ 17 مارچ 2019ءکو وادی کولانچ(تربت)‘ بلوچستان سے رپورٹ کیا گیا تھا۔ محکمہ پلانٹ پروٹیکشن نے فوری طور پر اپنی سروے اور کنٹرول ٹیموں کو حملے کے مقام پر روانہ کردیا اور انہوں نے ٹڈی دل کی تلاش اور اعضاءتلف کرنے کا کام شروع کردیا۔ ڈی پی پی‘ وزارت قومی غذائی تحفظ اور تحقیق کی گراﺅنڈ کنٹرول ٹیموں نے کیمیاوی ادویات کے ذریعے صحرائی ٹڈی دل کے حملے پر بروقت اور موثر انداز سے قابو پالیا تھا۔ ڈی پی پی نے ٹڈی دل پر قابو پانے کی کارروائیوں کا آغاز کردیا تھا جو مارچ 2019ءسے اب تک پنجاب‘ سندھ‘ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جاری ہیں۔ ٹڈی دل کو تلف کرنے کی غرض سے یکم مارچ 2020ءتک کل 309,610 ہیکٹر رقبے پر انسدادی کارروائیاں کی جاچکی ہیں اور اس میں سے 20,300 ہیکٹر رقبے پر ہوائی جہاز کے ذریعے سپرے کیا گیا تھا۔ اب تک کل 449,145 ہیکٹر رقبے پر انسدادی کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔ جس میں 28,420 ہیکٹر رقبے پر ہوائی جہاز سے سپرے کیا گیا ہے۔ ڈی پی پی صحرائی ٹڈی دل کے ماحولیاتی‘ حیاتیاتی سروے اور کنٹرول سے متعلق پہلوﺅں کے بارے میں تربیت دی ہے اور صوبائی محکمہ زراعت اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے انسدادی کارروائیاں کی ہیں۔ ضلعی حکومت نے افرادی قوت‘ کیماوی ادویات‘ گاڑیاں اور بار برداری کی سہولیات فراہم کی ہیں۔ این ایل سی سی اجلاسوں میں صوبوں سے کئی بار استدعا کی گئی کہ مجوزہ پرفارما پر ٹڈی دل کے حملے کے باعث فصل کو ہونے والے نقصانات کا ڈیٹا روزانہ کی بنیاد پر وزارت این ایف ایس اینڈ آر اور این ایل سی سی کو فراہم کرے مگر صوبوں کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔ اس کے بعد وزارت نے تین جون 2020ءکو اسی استدعا کے ساتھ صوبوں کو مراسلہ ارسال کیا۔ آٹھ جون 2020ئ‘ 15 جون 2020ئ‘ اور 22 جون 2020ءکو یاددہانی بھی کرائی گئی۔ یکم جولائی 2020ءکو حکومت پنجاب نے ایک رپورٹ کا تبادلہ کیا اور مطلع کیا کہ 0.973 ملین ہیکٹر کے رقبے پر ٹڈی دل کی موجودگی رپورٹ ہوئی ہے جس میں سے صرف 2.6 فیصد رقبہ ٹڈی دل سے متاثر ہوا ہے جوکہ صرف 25312 ہیکٹر بنتا ہے۔ دیگر صوبو کے ردعمل کا اب تک انتظار ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کل 2954.05 ملین روپے بطور حصہ دیئے ہیں جس میں وفاق کا حصہ 955.55 ملین ‘ پنجاب کا 1000 ملین‘ سندھ کا 361.0 ملین‘ کے پی کے کا 2.5 ملین اور مالی سال 2019-20ءمیں بلوچستان کا حصہ 635.0 ملین ہے۔ خطرے کی سنجیدگی کی وجہ سے کابینہ نے 11 فروری 2020ءکو پاکستان میں صحرائی ٹڈی دل پر نیشنل ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان وزیراعظم کو پیش کیا گیا ہے اور شراکت داروں کی مشاورت کے بعد اس پر نظرثانی کی گئی ہے۔ ٹڈی دل کے خطرے سے دوچار علاقوں میں بروقت سروے کئے گئے اور اس کو کنٹرول کرنے کا سازوسامان نصب کیا گیا۔ این ڈی ایم اے‘ سروے اور کنٹرول آپریشن کے لئے ضروری سامان اور سفارش کردہ کیڑے مار ادویات اور سپرے کی خریداری کی کوششیں کر رہا ہے۔ بلوچستان کے بہار میں افزائش کے علاقہ جات میں سروے اور کنٹرول آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔ پنجاب کے چولستان کے صحراءاور سندھ کے تھرپارکر صحرا میں نامزد کی گئی ٹیمیں سروے کر رہی ہیں۔ کے پی کے میں بھی صحرا ٹڈی دل کنٹرول آپریشن کئے جارہے ہیں۔

مزید خبریں