پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی کی بیجنگ میں الوداعی تقریب، دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کو خراجِ تحسین،چینی دوستوں اور ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا

چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کی سفارتی ذمہ داریوں کی تکمیل پر پاکستان ہائوس بیجنگ میں الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں چینی حکام ، سفارت کاروں، پاکستانی کمیونٹی ، میڈیا نمائندوں، کاروباری شخصیات اور سفارتی برادری کے ارکان نے شرکت کی، تقریب نے دونوں ممالک کے درمیان عوامی اور ادارہ جاتی سطح پر موجود وسیع روابط کی عکاسی کی۔

بیجنگ۔9ستمبر (اے پی پی):چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کی سفارتی ذمہ داریوں کی تکمیل پر پاکستان ہائوس بیجنگ میں الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں چینی حکام ، سفارت کاروں، پاکستانی کمیونٹی ، میڈیا نمائندوں، کاروباری شخصیات اور سفارتی برادری کے ارکان نے شرکت کی، تقریب نے دونوں ممالک کے درمیان عوامی اور ادارہ جاتی سطح پر موجود وسیع روابط کی عکاسی کی۔

پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے چین میں اپنے تقریباً 34 ماہ کے دورِ سفارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں کے وسیع دوروں نے انہیں چین کے ترقیاتی تجربے اور بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے اس کے نقطہ نظر کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع دیا،ان تجربات سے انہیں مشترکہ ترقی، مشترکہ سلامتی اور مشترکہ تہذیب پر مبنی اقدامات کو سمجھنے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ ان تجربات کے ذریعے وہ مشترکہ خوشحالی،مشترکہ ترقی، باہمی مفاد پر مبنی تعاون اور مشترکہ مستقبل جیسے تصورات کو بھی بہتر طور پر سمجھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی کے پیچھے موجود دانش مندی اور طویل مدتی سوچ نے انہیں بہت متاثر کیا۔ ا ن کا کہنا تھا کہ دورِ سفارت کے دوران پاکستان اور چین کے تعلقات کو صرف حکومت سے حکومت تک محدود رکھنے کی بجائے کاروباری اداروں کے درمیان اور عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔

انہوں نے مختلف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عظیم دیوارِ چین پر پاکستان-چین فیشن شو، ثقافتی کنسرٹس، آم کے میلوں اور چینگڈو میں پاکستان فوڈ فیسٹیول جیسے پروگرام دونوں ممالک کے عوام اور ثقافتوں کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے کے اہم ذرائع ثابت ہوئے،ہم کاروباری سطح کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی بہت کچھ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے چین میں چار نئے پاکستان سٹڈیز سینٹرز کے قیام کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا جو شین ژین، شان ڈونگ، لیاوننگ اور ہانگ ژو میں قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مراکز باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے اور تعلیم، تحقیق، تجارت، سرمایہ کاری اور کاروبار سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان اور چین کی دوستی، باہمی سمجھ بوجھ اور مزید کاروبار، سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ کے لیے بہترین پلیٹ فارمز ہیں۔

خلیل ہاشمی نے صوبائی اور مقامی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کا بھی ذکر کیاجن میں صوبہ پنجاب اور چینی صوبے ژی جیانگ کے درمیان تعلقات کا قیام اور لیاوننگ اور ہونان کے ساتھ نئے روابط استوار کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ پاکستان اور چین کے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے دوطرفہ دوستی کو منفرد اور انتہائی اہم قرار دیا خصوصاً ایسے وقت جب دونوں ممالک رواں سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منارہے ہیں۔ا نہوں نے کہا کہ ہماری ثقافتوں، زبان، طرزِ حکمرانی اور سیاسی و معاشی نظام میں نمایاں فرق کے باوجود ہم دنیا کے سب سے پائیدار بین الریاستی تعلقات میں سے ایک قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں،اس تعلق کی مضبوطی دونوں ممالک کی کئی نسلوں کے رہنمائوں ، سفارت کاروں اور عوام کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے جسے پاکستان اور چین عام طور پر مضبوط آہنی دوستی قرار دیتے ہیں۔

خلیل ہاشمی نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے لیے پاکستان کی حمایت کے ساتھ ساتھ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سویلائزیشن انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے لیے بھی پاکستان کی حمایت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یقیناً چینی صدر شی جن پنگ کے ان اقدامات کی حمایت کرنے والے اولین ممالک میں ہمیشہ شامل رہا ہے۔ خلیل ہاشمی نے اپنے دورِ سفارت کے دوران دوستی، تعاون اور حمایت پر چینی حکام اور ساتھیوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی حمایت، مدد اور دوستی کے بغیر پاکستان اور چین کے لیے ہم جو کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے وہ ممکن نہیں تھا۔

انہوں نے پاکستان کے سفارتخانے اور چین میں پاکستانی قونصل خانوں کے ساتھیوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے دور میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو بہترین ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نےاپنے پورے دورِ سفارت میں اپنی اہلیہ مریم محمود کی جانب سے تعاون اور بیجنگ میں سفارتی مشنز کے سربراہان کی شریکِ حیات کے درمیان روابط اور سرگرمیوں میں ان کی شرکت کو بھی سراہا۔ واضح رہے کہ خلیل ہاشمی کی چین سے روانگی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ دونوں ممالک بدستور عوامی روابط، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی تعاون اور رابطہ کاری کو دوطرفہ تعاون کے اہم شعبوں کے طور پر فروغ دینے پر زور دے رہے ہیں۔

مزید خبریں