ٹیرف جنگ سے عالمی تجارتی نظام اور ڈبلیو ٹی او کی یکجہتی خطرے میں پڑ گئی،افتخار علی ملک

سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے جاری بھاری تجارتی ٹیرف کے بحران اور امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او کی31 سال کی یکجہتی میں دراڑیں نمایاں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

لاہور۔5اپریل (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے جاری بھاری تجارتی ٹیرف کے بحران اور امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او کی31 سال کی یکجہتی میں دراڑیں نمایاں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اتوار کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عالمی تجارتی تنظیم یکم جنوری1995 کو قائم کی گئی تھی، جس نے جنرل ایگریمنٹ آن ٹیرف اینڈ ٹریڈکی جگہ لے کر عالمی تجارت کے قواعد و ضوابط کو منظم کرنے کے لیے ایک مستقل بین الاقوامی ادارے کا کردار سنبھالا۔ تاہم حالیہ حالات میں یہ ادارہ شدید دبائو کا شکار دکھائی دیتا ہے۔

افتخار علی ملک نے کہا کہ ڈیجیٹل تجارت کے حوالے سے تنازعات نے بھی ڈبلیو ٹی او کی یکجہتی کو متاثر کیا ہے۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ رکن ممالک کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والے 4 روزہ وزارتی مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے، جس کے باعث اصلاحاتی منصوبے اور ای کامرس پر عائد عارضی پابندی میں توسیع نہ ہو سکی، ان کا کہنا تھا کہ حالیہ ناکامیاں ڈبلیو ٹی او پر مزید دبائو ڈال رہی ہیں، جبکہ دنیا بھر میں بڑھتا ہوا معاشی قوم پرستی کا رجحان اس ادارے کو بتدریج غیر موثر بنا رہا ہے۔

افتخار علی ملک نے رکن ممالک، خصوصا امریکا اور برازیل پر زور دیا کہ وہ ای کامرس مورٹوریم کے معاملے پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 1998 سے مسلسل تجدید ہونے والے اس معاہدے کو برقرار نہ رکھا گیا اور ممالک نے ڈیجیٹل سروسز پر نئے ٹیکسز اور محصولات عائد کرنا شروع کر دیے تو یہ ڈبلیو ٹی او کے نظام کی بنیادوں میں ایک اور بڑی دراڑ ثابت ہوگا جس سے ڈیجیٹل تجارت و لین دین سمیت پوری دنیا کی تجارت کو بڑا دھچکا لگے گا۔