اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):ٹیلی نار پاکستان نے ایوب ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اے اے آر آئی ) کے ساتھ پنجاب کے زرعی شعبے کو ڈیجیٹل جدت، تحقیق پر مبنی زرعی رہنمائی اور پائیدار کاشتکاری کے ذریعے جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں ٹیلی نار پاکستان کے ہیڈکوارٹر 345 میں منعقدہ تقریب ٹیلی نار پاکستان کے چیف مارکیٹنگ آفیسر احسن …
ٹیلی نار پاکستان اور ایوب ایگریکلچر ل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا پنجاب کی زراعت میں ڈیجیٹل جدت لانے کے لئے اشتراک

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):ٹیلی نار پاکستان نے ایوب ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اے اے آر آئی ) کے ساتھ پنجاب کے زرعی شعبے کو ڈیجیٹل جدت، تحقیق پر مبنی زرعی رہنمائی اور پائیدار کاشتکاری کے ذریعے جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں ٹیلی نار پاکستان کے ہیڈکوارٹر 345 میں منعقدہ تقریب ٹیلی نار پاکستان کے چیف مارکیٹنگ آفیسر احسن میکن اور ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکڑ ساجد الرحمٰن ، ڈی جی ، چیف سائنٹسٹ ، ایگری ریسرچ نے دونوں اداروں کے سینئر نمائندوں کی موجودگی میں معاہدے پر دستخط کئے۔
اس شراکت کے تحت ایوب ایگریکلچر ل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق کو ٹیلی نار پاکستان کے ڈیجیٹل زرعی پلیٹ فارمز خوشحال وطن اور خوشحال زمیندار کے فیچرز میں شامل کیا جائے گا تاکہ لاکھوں کسانوں کو بروقت، درست اور تحقیق پر مبنی زرعی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ اس اقدام سے کسان بہتر طریقے اپناتے ہوئے زرعی پیداوار میں اضافہ کر سکیں گے اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل ہوں گے۔ بدھ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق ٹیلی نار پاکستان کے چیف مارکیٹنگ آفیسر احسن میکن نے کہا کہ ٹیلی نار پاکستان میں ہمارا یقین ہے کہ زراعت کا مستقبل ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور تحقیق کے امتزاج سے ہی ممکن ہے۔
ایوب ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ یہ شراکت ہمارے پلیٹ فارمز خوشحال وطن اور خوشحال زمیندار کے ذریعے کسانوں کو درست وقت پر درست معلومات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈی جی ڈاکٹر ساجد الرحمٰن نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ تحقیق کے نتائج براہ راست کسانوں کو فائدہ پہنچائیں۔
ٹیلی نار پاکستان کے ساتھ یہ اشتراک ہمیں اپنی سائنسی معلومات ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں کسانوں تک پہنچانے میں مدد دے گا، جس سے زرعی پیداوار اور پائیداری دونوں میں بہتری آئے گی۔یہ اشتراک پنجاب کی زراعت میں ڈیجیٹل تبدیلی، تحقیق اور کاشتکاری کے درمیان مضبوط ربط اور پائیدار ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے جو ملک میں خوراک کے تحفظ اور معاشی استحکام کے لئے نمایاں کردار ادا کرے گا۔







