ٹینس لیجنڈ اور نوویک جوکووچ کے سرپرست نکولا پلیچ 86 برس کی عمر میں چل بسے

زغرب۔24ستمبر (اے پی پی):عالمی شہرت یافتہ کروشین ٹینس سٹار اور عظیم کوچ نکولا پلیچ طویل خدمات انجام دینے کے بعد 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی تصدیق کروشین ٹینس ایسوسی ایشن نے کی۔امریکی ویب سائٹ ای ایس پی این کے مطابق نکولا پلیچ نہ صرف ایک عالمی معیار کے کھلاڑی تھے بلکہ وہ ڈیوس کپ میں تین مختلف ممالک (جرمنی، کروشیا، سربیا) کو چیمپئن …

زغرب۔24ستمبر (اے پی پی):عالمی شہرت یافتہ کروشین ٹینس سٹار اور عظیم کوچ نکولا پلیچ طویل خدمات انجام دینے کے بعد 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی تصدیق کروشین ٹینس ایسوسی ایشن نے کی۔امریکی ویب سائٹ ای ایس پی این کے مطابق نکولا پلیچ نہ صرف ایک عالمی معیار کے کھلاڑی تھے بلکہ وہ ڈیوس کپ میں تین مختلف ممالک (جرمنی، کروشیا، سربیا) کو چیمپئن بنانے والے پہلے کپتان بھی تھے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے بعد بطور کوچ ٹینس دنیا میں انمٹ نقوش چھوڑے، اور ان کی قائم کردہ اکیڈمی سے گزرنے والے کھلاڑیوں میں نوویک جوکووچ، مائیکل سٹچ، گوران ایوانیشیویچ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔

نکولا پلیچ نے 1973میں فرنچ اوپن کا فائنل کھیلا، جہاں انہیں ایلی ناستاسے کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ وہ اسی سال ومبلڈن بائیکاٹ کے اہم محرک بھی تھے، جب یوگوسلاویہ کے حکام نے ان پر ڈیوس کپ میچ سے انکار کا الزام لگا کر معطل کر دیا۔ اگرچہ انہوں نے اس الزام کی تردید کی، لیکن اس کے باوجود انہیں ایک ماہ کے لئے معطل کر دیا گیا، جس میں ومبلڈن اوپن ٹینس چیمپئن شپ بھی شامل تھی۔اس فیصلے کے خلاف ایسوسی ایشن آف ٹینس پروفیشنلز (اے ٹی پی ) نے ان کا ساتھ دیا، اور نتیجتاً 81 کھلاڑیوں نے ومبلڈن اوپن ٹینس کا بائیکاٹ کیا، جن میں 16 میں سے 12 سرفہرست سیڈکھلاڑی شامل تھے۔ یہ بائیکاٹ ٹینس کی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ سمجھا جاتا ہے۔

نکولا پلیچ نے 9 سنگلز ٹائٹلز جیتے اور عالمی درجہ بندی میں چھٹے نمبر تک پہنچے۔ انہوں نے 1970 کا یو ایس اوپن ڈبلز ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔ بعدازاں کوچنگ کے میدان میں انہوں نے جرمنی (1988، 1989، 1993)، کروشیا (2005) اور سربیا (2010) کے ساتھ ڈیوس کپ جیت کر اپنی صلاحیتوں کو ثابت کیا۔سربین ٹینس سٹار نوویک جوکووچ نے کئی بار نکولا پلیچ کو اپنا سرپرست اور رہنما قرار دیا، اور ان کی رہنمائی کو اپنے کیریئر کی کامیابیوں میں اہم قرار دیا۔نکولا پلیچ کا انتقال عالمی ٹینس کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

 

مزید خبریں