اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):چین کی ایجوکیشنل ٹیکنالوجی کمپنی ’’ٹینگ پاکستان ‘‘ کے کنٹری ہیڈ منصور الحسن صدیقی نے کہا ہے کہ ٹینگ پاکستان 2026 میں توانائی، جدید زراعت اورڈیجیٹل معیشت جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دے گا اور صنعت و تعلیم کے مؤثر انضمام کے ذریعے اعلیٰ معیار کی ہنرمند افرادی قوت تیار کرے گا تاکہ چین اور پاکستان کی ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید …
ٹینگ رواں سال توانائی، جدید زراعت اورڈیجیٹل معیشت جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دے گا، کنٹری ہیڈ منصور الحسن صدیقی

مزید خبریں
اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):چین کی ایجوکیشنل ٹیکنالوجی کمپنی ’’ٹینگ پاکستان ‘‘ کے کنٹری ہیڈ منصور الحسن صدیقی نے کہا ہے کہ ٹینگ پاکستان 2026 میں توانائی، جدید زراعت اورڈیجیٹل معیشت جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دے گا اور صنعت و تعلیم کے مؤثر انضمام کے ذریعے اعلیٰ معیار کی ہنرمند افرادی قوت تیار کرے گا تاکہ چین اور پاکستان کی ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ منگل کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2025 کا سال چین پاکستان ٹی وی ای ٹی انڈسٹریل سینٹر آف ایکسیلینس (CPTICE) کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جس میں ادارہ ابتدائی منصوبہ بندی سے نکل کر عملی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو گیا۔
چین اور پاکستان کی حکومتوں کی اسٹریٹجک رہنمائی اور شراکت داروں کی بھرپور حمایت سے ادارہ جاتی ترقی، معیارات کی ہم آہنگی، منصوبہ جاتی آپریشنز اور نیٹ ورک کی توسیع میں نمایاں پیش رفت حاصل ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ مشترکہ طور پر پیشہ ورانہ مہارتوں اور نصابی معیارات کی تیاری اور منظوری کا سلسلہ کامیابی سے آگے بڑھایا گیا، جبکہ مختلف شعبوں پر مشتمل ڈیجیٹل کورس ریسورس لائبریری بھی قائم کی گئی۔ دوہری ڈگری پروگرام کے پہلے بیچ کی کامیاب گریجویشن نے اس مشترکہ تربیتی ماڈل کی افادیت ثابت کر دی ہے جبکہ ’’چینی زبان + پیشہ ورانہ مہارت‘‘ اور قلیل مدتی تربیتی پروگراموں سے نہ صرف تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا بلکہ ثقافتی روابط کو بھی تقویت ملی۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطحی دوطرفہ سرگرمیوں اور فورمز کے انعقاد سے CPTICE کے پلیٹ فارم کے کردار کو مزید مضبوطی ملی اور تعاون کے دائرہ کار اور گہرائی میں اضافہ ہوا۔ ان عملی نتائج سے واضح ہے کہ ادارہ چین اور پاکستان کے درمیان ٹی وی ای ٹی اور صنعت کے انضمام کا مرکزی رابطہ بن کر ایک پل اور محرک کا کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2026 میں CPTICE وسیع مشاورت، مشترکہ شراکت اور باہمی فائدے کے اصولوں کے تحت تعاون کو مزید گہرا کرے گا۔ ادارہ آپریشنل نظام کو بہتر بنانے، دونوں ممالک کی حکومتوں، تعلیمی اداروں اور صنعتی شعبے کے ساتھ ہم آہنگی بڑھانے اور منصوبوں کے مؤثر نفاذ پر توجہ دے گا۔
انہوں نے کہا کہ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں، جدید زراعت اور ڈیجیٹل مہارتیں ترجیحی شعبے ہوں گے، جہاں صنعت و تعلیم کے انضمامی ماڈلز کو فروغ دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت اور بین الاقوامی فنی سرٹیفکیشن مراکز کی فعالیت کو بڑھا کر پاکستان کے ٹی وی ای ٹی نظام کی پائیدار ترقی کو سہارا دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ معیاری نظام اور ڈیجیٹلائزیشن تعلیمی تعاون کو منظم کرنے اور منصوبوں کے معیار کو یقینی بنانے کے بنیادی ستون ہیں۔ 2021 سے CPTICE کے چینی سیکریٹریٹ نے دونوں ممالک کے اداروں اور صنعتوں کے ساتھ مل کر فنی مہارتوں کے معیارات، نصابی فریم ورک اور ڈیجیٹل کورسز کی تیاری میں عملی اقدامات کیے۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 کے اختتام تک دو فنی مہارتوں کے اہلیتی معیارات تیار کیے جا چکے ہیں، جبکہ مشترکہ پروگراموں کے 25 نصابی معیارات کی تیاری اور منظوری مکمل ہو چکی ہے۔ مزید 13 معیارات پاکستانی منظوری کے عمل میں ہیں اور ایک زیرِ تیاری ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل کورسز کی تعداد 153 تک پہنچ گئی، جن میں سے 82 کورسز پاکستانی اداروں سے منظوری حاصل کر کے تدریسی عمل کا حصہ بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2026 میں ادارہ نئی توانائی، جدید زراعت اور ڈیجیٹل معیشت جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دے گا اور صنعت و تعلیم کے مؤثر انضمام کے ذریعے اعلیٰ معیار کی ہنرمند افرادی قوت تیار کرے گا، تاکہ چین اور پاکستان کی ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔








