ٹیکس استثنیٰ اور سگریٹ انڈسٹری میں مبینہ ٹیکس چوری: سینیٹ ذیلی کمیٹی کا ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی نے ٹیکس استثنیٰ والے علاقوں میں 1,120 ارب روپے کے کنزیومر سرٹیفکیٹس اور سگریٹ انڈسٹری میں مبینہ ٹیکس چوری کے معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی نے ٹیکس استثنیٰ والے علاقوں میں 1,120 ارب روپے کے کنزیومر سرٹیفکیٹس اور سگریٹ انڈسٹری میں مبینہ ٹیکس چوری کے معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ ملک میں سگریٹ سازی کے لیے استعمال ہونے والے خام مال کا 94 سے 95 فیصد حصہ دو بڑی کمپنیاں درآمد کرتی ہیں جبکہ مقامي کمپنیاں صرف 6 فیصد خام مال استعمال کرتی ہیں۔ کنوینئر کمیٹی نے ٹیکس استثنیٰ والے علاقوں میں قائم تمام فیکٹریوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پچھلے دو سالوں کی تمام تفصیلات، بینک اکائونٹس اور ادا شدہ ٹیکس کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے داخلہ نے کسٹمز کا حساس ڈیٹا نجی میڈیا کو لیک ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایف بی آر کو ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی ہدایت کی ۔اجلاس میں محکمے میں چوری اور کرپشن میں ملوث اہلکاروں کے حوالہ سے بتایا گیا کہ چوری کے واقعات میں 22 افراد ملوث تھے جن میں سے 11 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

کمیٹی نے ملوث اہلکاروں کے آمدن سے زائد اثاثوں کی تفصیلات اور ان کے موبائل فونز کی فرانزک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ سنئیر سینیٹر طلحہ محمود نے تجویز دی کہ مبینہ کرپشن کے معاملے کو سینیٹ کی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سامنے رکھا جائے۔