لاہور۔25جنوری (اے پی پی):چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ ٹیکس جمع کرنے کیلئے صوبوں کو وفاق سے زیادہ کوشش کرنا ہوگی کیونکہ ان کا خلا زیادہ ہےاور ٹیکسز میں اضافہ کیلئے اکنامک گروتھ کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوارکو افکارِ تازہ تھنک فیسٹ 2026 کے تحت الحمرہ میں منعقدہ پینل ڈسکشن میں اپنا نقطہ نظر شیئر …
ٹیکس جمع کرنے کیلئے صوبوں کو وفاق سے زیادہ کوشش کرناہوگی ،ٹیکسز میں اضافہ کیلئے اکنامک گروتھ کا ہونا ضروری ہے ۔چیئرمین ایف بی آر
لاہور۔25جنوری (اے پی پی):چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ ٹیکس جمع کرنے کیلئے صوبوں کو وفاق سے زیادہ کوشش کرنا ہوگی کیونکہ ان کا خلا زیادہ ہےاور ٹیکسز میں اضافہ کیلئے اکنامک گروتھ کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوارکو افکارِ تازہ تھنک فیسٹ 2026 کے تحت الحمرہ میں منعقدہ پینل ڈسکشن میں اپنا نقطہ نظر شیئر کرتے ہوئے مزید کہا کہ 2009 میں این ایف سی ایوارڈ میٹنگ کے مطابق صوبوں اور وفاق کو ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب 15 فیصد تک لانا تھا۔
صوبوں کے پاس سروسز ٹیکس، زرعی آمدنی ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس سمیت تین ٹیکس ہیں۔ اگر ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب 15 فیصد تک لانا ہے تو صوبوں کو 2.5 فیصد حصہ ڈالنا ہوگا اور باقی 12.5 فیصد وفاق کو وصول کرنا ہوگا، اور اگر اس تناسب کو 18 فیصد تک لانا ہے تو صوبوں کا حصہ تین فیصد ہوگا۔انہوں نے مشورہ دیا کہ ڈھانچہ جاتی مسائل پر بات ہونی چاہیے، این ایف سی کے مسائل پر بات چیت ہوگی اور اس پر بھی بات ہوگی کہ وفاق کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا وفاق کو صوبوں میں چھوٹے منصوبوں پر پیسہ خرچ کرنا چاہیے؟انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں یہ مسائل باہمی افہام سے حل ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملائیشیا میں پراپرٹی ٹیکس جی ڈی پی کا پانچ فیصد ہے، انڈونیشیا میں تین فیصد، ہندوستان میں دو فیصد ہے جبکہ پاکستان میں 0.8 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کی طرف سے کم ٹیکس وصولی کی وجہ وفاق کا صوبوں پر اتنا زیادہ دباؤ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کراچی میں فی کس پراپرٹی ٹیکس 111 روپے وصول کیا گیا، جبکہ ہندوستانی کےشہر بنگلور میں 11,233 روپے وصول کیا گیا، جو کہ 100 گنا زیادہ ہے۔
لاہور میں پراپرٹی ٹیکس پر فی کس 623 روپے وصول کیے گئے ہیں، جبکہ چندی گڑھ میں 1,276 روپے وصول کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ذکر کیا کہ شوگر ملوں میں کیمرے لگنے سے وہاں سے 60 ارب روپے کا اضافی ٹیکس وصول کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پیسہ ضائع ہوا ہے کیونکہ پیسہ صوبوں میں گیا، صوبوں میں بھی بہت اچھا کام ہو رہا ہے۔ ستھرا پنجاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں بھی پنجاب کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتا ہوں اور وہاں روزانہ صفائی ہو رہی ہے، جو پہلے نہیں ہوتی تھی۔








