ٹیکس نظام کی اصلاح کیلئے وفاقی ٹیکس محتسب نے ملکی سطح پر سروے شروع کر دیا ہے ، فیاض رانجھا

فیصل آباد ۔ 04 اکتوبر (اے پی پی):ٹیکس نظام کی اصلاح کیلئے وفاقی ٹیکس محتسب نے ملکی سطح پر سروے شروع کر دیا ہے جس کے نتیجہ میں ملنے والی سفارشات منظوری کے بعد از خود نافذ العمل ہو جائیں گی۔ یہ بات وفاقی ٹیکس محتسب کی ایڈوائزری کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے دورے کے دوران ایک تقریب سے خطاب …

فیصل آباد ۔ 04 اکتوبر (اے پی پی):ٹیکس نظام کی اصلاح کیلئے وفاقی ٹیکس محتسب نے ملکی سطح پر سروے شروع کر دیا ہے جس کے نتیجہ میں ملنے والی سفارشات منظوری کے بعد از خود نافذ العمل ہو جائیں گی۔ یہ بات وفاقی ٹیکس محتسب کی ایڈوائزری کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے دورے کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام کی بہتری کے لئے چیمبرز کو عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ بزنس کمیونٹی کی طرح ایف ٹی او بھی ٹیکس نظام کو درست کرنا چاہتا ہے جبکہ اس کے فیصلوں کو بھی عوام تک پہنچایا جانا چاہیے تاکہ لوگوں کا اس ادارے پر اعتماد بحال ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس محتسب کی مداخلت پر تنخواہ دار طبقہ کیلئے ریٹرن کے فارم میں 54 خانوں کو کم کر کے چار کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے سینئر نائب صدرچیمبر ڈاکٹر سجاد ارشد سے کہا کہ وہ اپنی تجاویز تحریری طور پر پیش کریں تاکہ اُن پر عملدرآمد کرایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ایس ایم ایس کے ذریعے بھی اپنی جائز شکایات ایف ٹی او تک پہنچا سکتے ہیں۔ اختیارات کے ناجائز استعمال پر ایف ٹی او اب تک 13اعلیٰ افسران کو سزا دے چکا ہے لیکن ہمارا حتمی مقصد ٹیکس نظام کی اصلاح ہے اور اس کیلئے ہمیں بزنس کمیونٹی کا عملی تعاون درکار ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ بزنس کمیونٹی کی آگاہی کیلئے بڑے سیشن سے خطاب کرنے کیلئے بھی تیار ہیں۔

اس سے قبل سینئر نائب صدرچیمبر ڈاکٹرسجاد ارشد نے ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی طرف سے ٹیکس دہندگان کی سہولت کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ یہ غالباً ایف ٹی او حکام سے اُن کی چوتھی میٹنگ ہے ۔انہوں نے ٹیکس کے نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے ایف ٹی او کی کارکردگی کو نمایاں کرنے کیلئے انہیں چیمبر میں اپنا ڈیسک قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی تاکہ چیمبر کے ممبر اپنی شکایات متعلقہ شخص کو بتا سکیں۔

انہوں نے فائلر اور نان فائلر کی تقسیم کو بھی ختم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ہر شخص کو فائلر ہونا چاہیے نان فائلر کی تقسیم دراصل خفیہ دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس حکام کو بینکوں سے سارا ڈیٹا ٹیکس دہندگان کا ملتا ہے جن پر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ کو بند کر کے ایف بی آر کو صرف ٹیکس نا دہندگان پر توجہ دینی ہو گی۔ اس سے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ محاصل کی وصولی بھی بڑھے گی۔ اس موقع پرنائب صدرفیصل آباد چیمبر حاجی محمد اسلم بھلی نے بتایا کہ پراپرٹی اور بروکر ی کے کاروبار سے وابستہ افراد ایف بی آر کے موجودہ طریقہ کار کی وجہ سے ٹیکس نظام کا حصہ نہیں بن رہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے تاجر سیل ٹیکس کا حصہ نہیں بننا چاہتے کیونکہ ان کی ٹرانزکشن کا حجم بہت زیادہ ہوتا ہے مگر اس کے برعکس ان کا منافع نہ ہونے کے برابرہوتا ہے لیکن ان کو ٹرانزکشن پر ادائیگی کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی، سیمنٹ، سریا اور اس قسم کے دوسرے شعبوں پر 0.25فیصد ٹرن اوور ٹیکس عائد کر کے ان کو ٹیکس نظام کو حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر سابق صدر رانا محمد سکندر اعظم،سابق سینئر نائب صدر چوہدری طلعت محمود اور ڈائریکٹر ایف ٹی او ناظم رضا بھی موجود تھے۔