ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کو انسانی اقدار اور قومی شناخت کے ساتھ متوازن رکھنا ضروری ہے،ملائیشیا

"ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار ترقی کے ساتھ انسانی اقدار اور قومی شناخت کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے باوجود معاشرتی اقدار اور قومی تشخص برقرار رہیں۔”

کوالالمپور۔29جولائی (اے پی پی):ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار ترقی کے ساتھ انسانی اقدار اور قومی شناخت کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے باوجود معاشرتی اقدار اور قومی تشخص برقرار رہیں۔

شنہوا کے مطابق انہوں نے ڈیجیٹل کی وزارت کے تحت آئی ادارے’’اے آئی ملائیشیا‘‘ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا کو عالمی سطح پر مسابقت برقرار رکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے اور قومی اقدار کے تحفظ کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے تعلیم، تربیت اور مصنوعی ذہانت کے شعبے کی ترقی کے لیے موزوں بنیادی ڈھانچے پر خاطر خواہ سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔ انور ابراہیم ، جو ملک کے وزیر خزانہ بھی ہیں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے کا آغاز تعلیمی نظام سے ہونا چاہیے جہاں طلبہ کو ابتدائی سطح ہی سے اس ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جائے۔ انہوں نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کی تعلیم، تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت ،اساتذہ کی تربیت اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر ملائیشیا کے ڈیجیٹل کے وزیر گوبند سنگھ دیو نے کہا کہ 2030 تک ملائیشیا کو ’’اے آئی نیشن‘‘بنانے کے ہدف کے لیے صرف حکومتی کوششیں کافی نہیں ہوں گی بلکہ صنعت، جامعات، عوام اور دیگر متعلقہ شعبوں کی مشترکہ شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اے آئی ملائیشیا دراصل نیشنل اے آئی آفس کی توسیع اور باضابطہ ادارہ جاتی شکل ہے، جو 12 دسمبر 2024 کو ملک میں مستقبل کی ٹیکنالوجی پر مبنی تبدیلی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔