کینیڈی ۔24فروری (اے پی پی):ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے میں سیمی فائنل تک رسائی کے لئےپاکستان کو اب نہ صرف اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی بلکہ دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا پڑے گا۔ گرین شرٹس کے لیے سب سے پہلی اور اہم شرط یہ ہے کہ وہ 28 فروری کو کینیڈی میں ہونے والے اپنے آخری سپر 8 میچ میں سری لنکا کو ہرائیں۔ …
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا سپر 8 مرحلہ ، سیمی فائنل تک رسائی کے لئےپاکستان کو کارکردگی بہتر بنانا ہوگی

مزید خبریں
کینیڈی ۔24فروری (اے پی پی):ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے میں سیمی فائنل تک رسائی کے لئےپاکستان کو اب نہ صرف اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی بلکہ دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا پڑے گا۔ گرین شرٹس کے لیے سب سے پہلی اور اہم شرط یہ ہے کہ وہ 28 فروری کو کینیڈی میں ہونے والے اپنے آخری سپر 8 میچ میں سری لنکا کو ہرائیں۔
اس کامیابی کے بغیر آگے بڑھنے کی تمام امیدیں ختم ہو جائیں گی۔ تاہم صرف فتح کافی نہیں ہوگی۔ پاکستان کو یہ بھی دعا کرنی ہوگی کہ نیوزی لینڈ اپنی باقی دونوں میچوں میں شکست سے دوچار ہو۔ اگر نیوزی لینڈ دونوں مقابلے ہار جاتا ہے تو پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان کو برتری حاصل ہو جائے گی اور وہ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لے گا۔
دوسری صورت میں اگر نیوزی لینڈ ایک میچ جیتتا ہے اور ایک ہارتا ہے تو پھر فیصلہ نیٹ رن ریٹ پر ہوگا۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کو نہ صرف کامیابی درکار ہوگی بلکہ بڑے مارجن سے جیتنا ہوگا تاکہ اس کا نیٹ رن ریٹ نیوزی لینڈ سے بہتر ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی دکھانا ناگزیر ہوگا۔
اگر نتائج اس کے برعکس آتے ہیں تو پاکستان کا ٹورنامنٹ میں سفر اختتام پذیر ہو جائے گا۔ یوں صورتحال واضح ہے کہ قومی ٹیم کو اپنی آخری رکاوٹ عبور کرنے کے ساتھ ساتھ حریف ٹیم کے نتائج کے لیے بھی سازگار حالات کی ضرورت ہے تاکہ ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک رسائی کا خواب زندہ رہ سکے۔








