پائیدار برآمدی ترقی کے لیے مسابقت، پیداواری حجم اور پالیسی میں تسلسل بنیادی عناصر ہیں،صنعت اور حکومتی اداروں کے درمیان مسلسل رابطے مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے ناگزیر ہیں،وفاقی وزیر خزانہ و محصولات

اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پائیدار برآمدی ترقی کے لیے مسابقت، پیداواری حجم اور پالیسی میں تسلسل بنیادی عناصر ہیں،صنعت اور حکومتی اداروں کے درمیان مسلسل رابطے مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں الیکٹرک فین کی صنعت سے وابستہ نمائندہ وفد سے ورچوئل ملاقات کے دوران کہی۔وفد کی قیادت فیڈریشن …

اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پائیدار برآمدی ترقی کے لیے مسابقت، پیداواری حجم اور پالیسی میں تسلسل بنیادی عناصر ہیں،صنعت اور حکومتی اداروں کے درمیان مسلسل رابطے مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں الیکٹرک فین کی صنعت سے وابستہ نمائندہ وفد سے ورچوئل ملاقات کے دوران کہی۔وفد کی قیادت فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان الیکٹرک فین مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ارکان کر رہے تھے۔ ملاقات میں شعبے کو درپیش مسائل، برآمدات کے امکانات اور حکومتی معاونت کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے حال ہی میں لاہور میں ایف پی سی سی آئی کے کاروباری نمائندوں سے ہونے والی اپنی ملاقات کا حوالہ دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مختلف صنعتی شعبوں کے ساتھ براہِ راست مشاورت جاری رکھے گی تاکہ ان کے کاروباری حالات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور ان کی ترقی میں مدد فراہم کی جا سکے۔

وفد نے پنکھوں کی صنعت کے ڈھانچے اور معیشت میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ یہ مکمل طور پر مقامی سطح پر قائم صنعت ہے جس میں تقریباً 300 کارخانے شامل ہیں، جو زیادہ تر گجرات اور گوجرانوالہ میں واقع ہیں۔ یہ صنعت روزگار کے حوالے سے بھی نمایاں کردار ادا کرتی ہے، جہاں تقریباً 40 ہزار افراد کو براہِ راست جبکہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کو بالواسطہ روزگار فراہم کیا گیا ہے، یہ صنعت مقامی سطح پر قدر میں اضافہ (ویلیو ایڈیشن) بھی نمایاں ہے۔ وفد نے خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں برآمدات کے حوالے سے صنعت کی کارکردگی اور حالیہ رجحانات سے بھی وزیر خزانہ کو آگاہ کیا۔ملاقات میں صنعت کی جانب سے توانائی بچانے والی ڈی سی فین ٹیکنالوجی کی طرف منتقلی پر بھی گفتگو ہوئی۔ وفد نے بتایا کہ صنعت بڑی سطح پر روایتی پنکھوں کو توانائی بچانے والے پنکھوں سے تبدیل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، جس سے بجلی کی کھپت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

اس موقع پر وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اگرچہ اس حوالے سے پالیسی فریم ورک موجود ہے، لیکن اس کے مؤثر نفاذ کے لیے عوامی آگاہی میں اضافہ اور مالیاتی اداروں کے ساتھ بہتر رابطہ ضروری ہے۔ انہوں نے عملدرآمد میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ سکے۔ ملاقات میں پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے مالی وسائل تک رسائی کے موضوع پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا اور بتایا گیا کہ توانائی بچت منصوبوں کے تحت ممکنہ طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار بڑھانا ضروری ہوگا۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پیداواری شعبے میں سرمایہ کاری کو آسان بنانے کی ضرورت ہے اور موجودہ مالیاتی سہولتوں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ انہیں صنعت کی ضروریات کے مطابق بہتر بنایا جا سکے۔ صنعت کے نمائندوں نے بعض بنیادی اور پالیسی سے متعلق مسائل خاص طور پر تانبے اور ایلومینیم جیسے اہم خام مال کی دستیابی اور استعمال کے حوالے سے مسائل کی نشاندہی بھی کی ۔ وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ ان خام اشیاء کی خام شکل میں برآمدات میں اضافے سے مقامی ویلیو ایڈڈ صنعت متاثر ہو رہی ہے، اس لیے ایسی متوازن پالیسی کی ضرورت ہے جو ملک کے اندر قدر میں اضافہ کرنے والی صنعت کو فروغ دے۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو درپیش مالی مسائل، مثلاً ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی، برآمدات میں سہولت اور خام مال پر عائد ٹیرف کے معاملات پر بھی تفصیل سے غور کیا گیا۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ جاری اصلاحات کا مقصد پیداواری لاگت کو کم کرنا اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے۔ وزیر خزانہ نے صنعت کو ہدایت دی کہ وہ اپنے مخصوص مسائل کی تفصیلات حکومت کے ساتھ شیئر کرے تاکہ ان کا مؤثر حل تلاش کیا جا سکے۔ اجلاس میں برقی آلات کی صنعت کی مسابقت بڑھانے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس کے لیے حکومتی معاونت اور جدت کو اہم قرار دیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پائیدار برآمدی ترقی کے لیے مسابقت، پیداواری حجم اور پالیسی میں تسلسل بنیادی عناصر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ ٹیکس پالیسی اہم ہے، لیکن مالی وسائل تک رسائی، توانائی کی بچت اور نئی منڈیوں کی تلاش بھی صنعتی ترقی کے لیے اتنی ہی ضروری ہیں۔ انہوں نے صنعت اور حکومتی اداروں کے درمیان مسلسل رابطے کو مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ وزیرِ خزانہ نے توانائی بچانے والی ٹیکنالوجیز کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ موجودہ حکومتی اقدامات کے بارے میں آگاہی اور ان پر مؤثر عملدرآمد ہی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی کنجی ہے۔

اجلاس کے اختتام پر وزیرِ خزانہ نے ویلیو ایڈڈ مینو فیکچرنگ اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کی مکمل حمایت کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ صنعت کے نمائندوں کے ساتھ مسلسل مشاورت آئندہ معاشی منصوبہ بندی کا اہم حصہ رہے گی۔اجلاس میں وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزارتِ خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ اداروں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں نبیل احمد الیاس (چیئرمین پی ای ایف ایم اے )، ایم اظہر اسلم (چیئرمین ایکسپورٹ کمیٹی پی ای ایف ایم اے)، یاسر احسان (ڈائریکٹر پاک فینز)، عماد رفیق (ڈائریکٹر رائل فینز)اور ایم فیصل افضل (سی ای او سپر ایشیا گروپ) سمیت دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔