پائیدار ترقی کے حصول کے لیے ٹیکسوں اور ملکی وسائل کو متحرک کرنا بنیادی اہمیت کا حامل ہے، اے ڈی بی کےنائب صدر کاٹیکس نظام کے ذریعہ مالیاتی استحکام پرمکالمہ سے خطاب

پائیدار ترقی کے حصول کے لیے ٹیکسوں اور ملکی وسائل کو متحرک کرنا بنیادی اہمیت کا حامل ہے، اے ڈی بی کےنائب صدر کاٹیکس نظام کے ذریعہ مالیاتی استحکام پرمکالمہ سے خطاب

اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا، ینگ منگ یانگ نے کہاہے کہ پائیدار ترقی کے حصول کے لیے ٹیکسوں اور ملکی وسائل کو متحرک کرنا بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں ایشیائی ترقیاتی بینک کے زیراہتمام ٹیکس نظام کےذریعہ مالیاتی استحکام پرمکالمہ سے اپنے خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط ریونیو نظام حکومتوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ عوام، بنیادی ڈھانچے اور بحرانی کیفیت سے نمٹنے کی صلاحیت پر سرمایہ کاری کر سکیں، جس سے بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کے لیے ٹیکس نیٹ کے محدود دائرہ کار، غیر دستاویزی معیشت اور ٹیکس ادائیگیوں میں کمی جیسے چیلنجز سے نمٹنا انتہائی ناگزیر ہے پالیسی سازوں، ماہرینِ معاشیات اور بین الاقوامی شراکت داروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریونیو جمع کرنے کے نظام میں موجود ڈھانچہ جاتی رکاوٹیں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی راہ میں مسلسل رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح خطہ میں سب سے کم ہے، جس کی وجہ سے قومی بجٹ میں عوامی خدمات اور بنیادی ڈھانچے کے اہم منصوبوں کے لیے بیرونی قرضوں پر انحصار بڑھ رہاہے قرضوں کے اس چکر کو توڑنے کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، خاص طور پر ان شعبوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے جن پر ٹیکس کی شرح کم ہے، اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو تیزی سے ڈیجیٹلائز کرنے کی ضرورت ہے ۔

ینگ منگ یانگ نے کہاکہ منصفانہ، شفاف اور جدید ٹیکس نظام ہی طویل مدتی اقتصادی استحکام حاصل کرنے اور ملک کو مستقبل کے موسمیاتی و معاشی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کا واحد راستہ ہے۔مکالمے کا اختتام حکومتی نمائندوں اور ترقیاتی شراکت داروں کے اس باہمی عزم کے ساتھ ہوا کہ ٹیکس چوری کو روکنے اور ملک بھر میں رضاکارانہ طور پر ٹیکس جمع کرانے کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے فوری قانون سازی اور انتظامی اصلاحات کو آگے بڑھایا جائے گا۔