پائیدار ریسرچ اور مضبوط پالیسی کےبغیر سٹرس کی پیداوار،بحالی اور ایکسپورٹ میں اضافہ ممکن نہیں، وائس چانسلر جامعہ سرگودھا

وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات (ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز، تمغہ امتیاز) نے کہا ہےکہ پائیدار ریسرچ اور مضبوط پالیسی کےبغیر سٹرس کی پیداوار،بحالی اور ایکسپورٹ میں اضافہ ممکن نہیں۔سٹرس ہماےسرگودھاکی نہ صرف پہچان ہے بلکہ یہ اس علاقے کی سب سے بڑی فصل ہے جسکی پیداوار میں اضافے کے لئے ہر ممکن عملی اور تحقیقی اقدامات کئے جائیں گے

سرگودھا -12 اکتوبر (اے پی پی):وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات (ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز، تمغہ امتیاز) نے کہا ہےکہ پائیدار ریسرچ اور مضبوط پالیسی کےبغیر سٹرس کی پیداوار،بحالی اور ایکسپورٹ میں اضافہ ممکن نہیں۔سٹرس ہماےسرگودھاکی نہ صرف پہچان ہے بلکہ یہ اس علاقے کی سب سے بڑی فصل ہے جسکی پیداوار میں اضافے کے لئے ہر ممکن عملی اور تحقیقی اقدامات کئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرگودھا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے عہدید اران، کنو کے کاشتکاروں اور ایکسپورٹرز سے یونیورسٹی کے ملٹی پرپز کمیٹی روم میں ملاقات کرتےہوئےکیا۔اس موقع پریونیورسٹی آف سرگودھا کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود سرور اعوان، یونیورسٹی ڈینز، رجسٹرار، ڈائریکٹر اورک،کالج آف ایگریکلچر کے سینئر ترین اساتذہ، نائب صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سرگودھا راؤ حمزہ قیوم، سینئر ایگزیکٹو ممبر رانا شاہد محمود، عبداللہ مسعود، اختر سعید گوندل بھی موجود تھے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات نے کہا ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی اجناس اور پھلوں کوقدرت نے خاص ذائقہ دیا ہے جس میں سٹرس ایک اہم ترین پیداوار ہے جسے وقت گزرنےکےساتھ وائرس، بیماریوں اور ایکسپورٹ سمیت بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح معاشرے میں ہمیں بہت سے معاشرتی مسائل کا سامنا کرناپڑتاہے اسی طرح بدلتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں سے فصلوں کو بھی مسائل درپیش ہیں جنہیں حل کرنا ہمارے زرعی ماہرین، اساتذہ اور محققین کے اوّلین فرائض میں ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات نے اس موقع پر سٹرس ایکسپورٹرز کو بتایاکہ ہمارے اساتذہ سٹرس پر ترجیحی بنیادوں پر کام کررہے ہیں اور اس کی بحالی کے لئے ماڈل زرعی فارم بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں قدرت نے بے پناہ ٹیلنٹ دیا ہے اور پوری دنیا میں پاکستان کے لوگ وطن عزیز کا نام روشن کررہے ہیں اور زراعت کو میں بھی سائنسدانوں کا اہم کردار ہے اور یہ زرعی مسائل بھی ہم نے ہی حل کرنے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی میٹنگ کا بنیادی مقصد سٹرس کی بحالی، اسے بیماریوں سے پاک اور اس کی پیداوار میں اضافہ ہے اور یہ تمام مسائل سٹرس کے کاشتکاروں کی کو آرڈی نیشن کے بغیر ممکن نہیں اور سٹرس کو وائرس جیسی خطرناک بیماریوں سےہرممکن بچایا جائے گا نیز پاکستان میں موجود زرعی تحقیقی اداروں کے ساتھ سٹرس کی بہتری اور بحالی کے لئے معاہدات شروع کئے جائیں گے۔

اس موقع پر چیمبر آف کامرس کے عہدید اروں، نمائندوں اور کنو ایکسپورٹرز نے وائس چانسلر اور سرگودھا یونیورسٹی کے ماہرین کو قیمتی آراء دیں اور اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے وائس چانسلر کا شکریہ ادا کیا اور سٹرس کے حوالے سے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔میٹنگ میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر مسعود سرور اعوان اور ڈین فیکلٹی آف ایگری کلچر پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف سےسٹرس کےکاشتکاروں کوخصوصی رہنمائی بھی دی اور انہیں آئندہ کے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا۔

مزید خبریں