پنجاب یونیورسٹی میں آثارِ قدیمہ کے ورثے کی نقشہ سازی کے موضوع پر پانچ روزہ تربیتی پروگرام کا آغاز

پنجاب یونیورسٹی شعبہ آرکیالوجی کے زیراہتمام یونیورسٹی آف کیمبرج کے اشتراک سے جی آئی ایس اور ثقافتی ورثے کی دستاویز بندی کے حوالے سے پانچ روزہ تربیتی پروگرام جنوبی ایشیا میں آثارِ قدیمہ کے ورثے کی نقشہ سازی کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیاگیا

لاہور۔12اکتوبر (اے پی پی):پنجاب یونیورسٹی شعبہ آرکیالوجی کے زیراہتمام یونیورسٹی آف کیمبرج کے اشتراک سے جی آئی ایس اور ثقافتی ورثے کی دستاویز بندی کے حوالے سے پانچ روزہ تربیتی پروگرام جنوبی ایشیا میں آثارِ قدیمہ کے ورثے کی نقشہ سازی کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیاگیا۔اس موقع پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر محمد علی، ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین سمیت طلبہ نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے شعبہ آرکیالوجی کی کاوشوں کو سراہا اور طلبہ کو تربیت کا بہترین موقع فراہم کرنے پر یونیورسٹی آف کیمبرج کے ماہرین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تربیت ثقافتی ورثے کی دستاویز بندی، تحفظ اور نوجوان ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ محدود وسائل کے باوجود پنجاب یونیورسٹی، اس کے اساتذہ اور طلبہ تعلیمی و تحقیقی میدان میں قابلِ قدر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جو لائقِ تحسین ہے۔تقریب کی نظامت ڈاکٹرسمعیہ طاہر نے کی، جبکہ تربیتی پروگرام میں ایم اے ایچ ایس اے کی ٹریننگ مینیجر آزادہ وفاداری اور یونیورسٹی آف کیمبرج سے عفیفہ بطور ماہرین خدمات انجام دے رہی ہیں۔ تربیتی پروگرام میں آثارِ قدیمہ کے شعبے میں کیو جی آئی ایس کے استعمال، ریموٹ سینسنگ اور جیو ریفرنسنگ، اوپن ڈیٹا کٹ کے ذریعے سروے کا طریقہ کار، ایک انچ پیمانے کے تاریخی نقشوں کے مطالعے، تاریخی نقشوں میں موجود خصوصیات کی شناخت اور آثارِ قدیمہ کے ورثے کی فوٹوگرافی سمیت مختلف موضوعات کا احاطہ کیا جا ئے گا۔ یہ تربیتی پروگرام 16 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

مزید خبریں