پائیدار معاشی ترقی کے لیے مضبوط اور مؤثر کیپٹل مارکیٹ نہایت اہم ہے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کا سی ایم ڈی سی اجلاس سے خطاب

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے مضبوط اور مؤثر کیپٹل مارکیٹ نہایت اہم ہے، متحرک کارپوریٹ بانڈ مارکیٹ کی ترقی طویل مدتی مقامی بچتوں کو متحرک کرنے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔انہوں نے یہ بات بدھ کویہاں کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل (سی ایم ڈی سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی،اجلاس …

اسلام آباد۔ 11 مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے مضبوط اور مؤثر کیپٹل مارکیٹ نہایت اہم ہے، متحرک کارپوریٹ بانڈ مارکیٹ کی ترقی طویل مدتی مقامی بچتوں کو متحرک کرنے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔انہوں نے یہ بات بدھ کویہاں کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل (سی ایم ڈی سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی،اجلاس میں پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کو مضبوط بنانے کے لیے جاری اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں خاص طور پر کارپوریٹ قرضہ مارکیٹ کی ترقی اور معاشی نمو کے لیے سرمایہ کاری کے ذرائع میں کیپٹل مارکیٹس کے کردار کو وسعت دینے پر توجہ دی گئی۔

وزیر خزانہ نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ مضبوط اور مؤثر کیپٹل مارکیٹ پائیدار معاشی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے کارپوریشنز کو طویل مدتی سرمایہ حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے اور ادارہ جاتی و انفرادی سرمایہ کاروں کے لیے متنوع سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان کو بتدریج ایک متوازن مالیاتی نظام کی طرف بڑھنا ہوگا جہاں کیپٹل مارکیٹس بینکاری شعبے کے ساتھ مل کر معیشت کی مالی ضروریات کو پورا کرسکے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ متحرک کارپوریٹ بانڈ مارکیٹ کی ترقی طویل مدتی مقامی بچتوں کو متحرک کرنے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔وزیر خزانہ نے عملی اور نظام الاوقات پرمبنی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام شراکت داروں کو کیپٹل مارکیٹ کی مکمل ویلیو چین میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا، جن میں اجرائ کے طریقہ کار، ریگولیٹری عمل، مارکیٹ انفراسٹرکچر اور ثانوی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اصلاحات کا مقصد ایسا سازگار ماحول پیدا کرنا ہونا چاہیے جہاں کمپنیاں مارکیٹ پر مبنی مالیاتی ذرائع کے ذریعے مؤثر انداز میں سرمایہ حاصل کر سکیں جبکہ سرمایہ کاروں کو شفافیت، لیکویڈیٹی اور نظام پر اعتماد بھی ہو۔وزیر خزانہ نے کارپوریٹ بانڈز کے اجرا کو آسان بنانے اور مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی حالیہ ریگولیٹری اصلاحات کے بارے میں آگاہی اور مؤثر ابلاغ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے سیکورٹیزاینڈایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی تاکہ کارپوریشنز، مالیاتی ادارے اور دیگر مارکیٹ شرکاء حالیہ مہینوں میں متعارف کرائے گئے آسان ریگولیٹری فریم ورک، کم دستاویزی تقاضوں اور دیگر سہولتوں سے مکمل طور پر آگاہ ہو سکیں۔ وزیر خزانہ نے کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کے حوالے سے بین الاقوامی اور علاقائی تجربات سے سیکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ہمسایہ ممالک کی ان بہترین پالیسیوں اور طریقہ کار کا جائزہ لیں جنہیں پاکستان کے تناظر میں اپنایا جا سکتا ہے۔

اجلاس میں ان پالیسی اقدامات پر بھی غور کیا گیا جن کا مقصد کمپنیوں کو روایتی بینک قرضوں کے متبادل کے طور پر کیپٹل مارکیٹس کے ذریعے فنڈز حاصل کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ کارپوریٹ بانڈ مارکیٹ کو گہرا کرنے سے کاروباری اداروں کے لیے مالی وسائل کے ذرائع متنوع ہوں گے اور بینک قرضوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم ہوگا۔ اجلاس کے دورا ن کیپٹل مارکیٹ کے شرکاء سے متعلق ٹیکس فریم ورک کا جائزہ بھی لیاگیا۔ اجلاس میں بتایاگیا کہ وزارت خزانہ کے ٹیکس پالیسی آفس نے سرمایہ کاروں اور اجرائ کنندگان دونوں کو متاثر کرنے والے ٹیکس مسائل کا جائزہ لینے کے لیے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد ٹیکس ڈھانچے کو معقول بنانا اور ایسے ممکنہ مراعات پر غور کرنا ہے جو کیپٹل مارکیٹ میں زیادہ شرکت کو فروغ دے سکیں۔

اجلاس میں پاکستان سٹاک ایکسچینج،سیکورٹیزاینڈایکسچینج کمیشن آف پاکستان،سٹیٹ بینک،سینٹرل ڈیپازٹری کمپنی،نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان،پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، اورپاکستان بزنس کونسل کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور کارپوریٹ بانڈز کے اجرا کو سہل بنانے اور مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے حالیہ اقدامات پر بریفنگ دی۔ شرکاء نے بتایا ک متعدد ریگولیٹری اصلاحات پہلے ہی نافذ کی جا چکی ہیں جن میں کارکردگی اور شفافیت میں اضافہ کیلئے پراسپیکٹس کے تقاضوں کو آسان بنانا، دستاویزی طریقہ کار کو ہموار کرنا، ریگولیٹری فیس میں کمی اور اجرا کے عمل کی ڈیجیٹلائزیشن شامل ہیں ۔ شرکاء نے کارپوریٹ بانڈ مارکیٹ کی ترقی میں درپیش ڈھانچہ جاتی چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا، جن میں منظوری کے عمل میں تاخیر، مارکیٹ کے شرکاء کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت اور ممکنہ اجرا ئ کنندگان میں آگاہی بڑھانے کی اہمیت شامل ہے۔ ثانوی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

شرکاء کے مطابق مؤثر مارکیٹ میکنگ نظام کی عدم موجودگی کارپوریٹ قرضہ آلات میں ٹریڈنگ سرگرمیوں اور قیمت کے تعین کے عمل کو محدود کرتی ہے۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ بینکوں اور بروکریج ہاؤسز کی زیادہ فعال شرکت مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بڑھانے اور سرمایہ کاروں کی وسیع شرکت کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اجلاس میں کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا بھی جائزہ لیا گیا جس کا مقصد ریگولیٹرز، مارکیٹ انفراسٹرکچر اداروں اور نجی شعبے کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ اس ضمن میں کونسل ایک منظم اصلاحاتی فریم ورک پر کام کر رہی ہے جس میں مالیاتی آلات کی توسیع، سرمایہ کاروں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانا، کارپوریٹ گورننس کے معیارات بہتر بنانا اور ادارہ جاتی و انفرادی سرمایہ کاروں کی زیادہ شرکت کو فروغ دینا شامل ہے۔

ان اصلاحات کے مؤثر نفاذ کے لیے سی ایم ڈی سی مختلف خصوصی ورکنگ گروپس قائم کرے گی جن میں ریگولیٹرز، مالیاتی اداروں اور صنعت کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ گروپس ٹیکس اور مالیاتی پالیسی، قرضہ اجرا کے فریم ورک، مارکیٹ انفراسٹرکچر کی ترقی اور سرمایہ کاروں کے تحفظ جیسے اہم اصلاحاتی شعبوں پر توجہ دیں گے تاکہ پالیسی اقدامات کے نفاذ کو تیز کیا جا سکے اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرمایہ کاری کو متحرک کرنے، مالیاتی استحکام کو مضبوط بناینے اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کو فروغ دینے کیلئے حکومت مؤثر کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کے لیے پرعزم ہے انہوں نے زور دیا کہ کونسل کو تمام شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنا چاہیے تاکہ اصلاحات کو بروقت نافذ کر کے پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔ اجلاس میں وزارت خزانہ کے سینئر حکام اور اہم ریگولیٹری و مارکیٹ اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

 

مزید خبریں