اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پارلیمانی کمیٹی برائے کووڈ۔19 کے اجلاس کے بائیکاٹ کو غیر ذمہ دارانہ سیاست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل سے ثابت ہوگیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ پر بھی اعتماد نہیں کرتیں ، اپوزیشن کو اس غیر ذمہ داری پر پوری قوم کو جواب دینا ہوگا ،حکومت اپنی پالیسی اور …
پارلیمانی کمیٹی برائے کووڈ۔19 کے اجلاس کا بائیکاٹ غیر ذمہ دارانہ سیاست ہے ، وزیر اطلاعات شبلی فراز

مزید خبریں
اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پارلیمانی کمیٹی برائے کووڈ۔19 کے اجلاس کے بائیکاٹ کو غیر ذمہ دارانہ سیاست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل سے ثابت ہوگیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ پر بھی اعتماد نہیں کرتیں ، اپوزیشن کو اس غیر ذمہ داری پر پوری قوم کو جواب دینا ہوگا ،حکومت اپنی پالیسی اور موقف پر مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے ، اپوزیشن کے ساتھ یا اپوزیشن کے بغیر عوام کی فلاح و بہبود ، روزگار کی حفاظت یقینی بنائے گی ، بدقسمتی سے جمہوریت کے دعویدار ہر معاملے کو سیاست کا رنگ دیتے ہیں ، عدالت عالیہ کے فیصلے ،حکومتی ایس اوپیز کی خلاف ورزی پر پی ڈی ایم پشاور جلسہ کے منتظمین اور شرکت کرنے والے قائدین کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا ، جان بوجھ کر عوام کی جان کو خطرے میں ڈالنے والے قومی مجرم ہیں ، ملک میں کورونا وائرس کی دوسری شدید ترین لہر آچکی ہے ، اس کا مقابلہ کرنے کے لئے احتیاط ہی واحد راستہ ہے ، وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق حکومت عوام کی جان ، روزگار ،معاشی سرگرمیوں کا تحفظ ہر صورت یقینی بنائے گی ۔اس کے لئے سخت پابندیاں بھی لگائی جاسکیں گی۔ وہ پارلیمانی کمیٹی برائے کووڈ ۔19 کے اجلاس کے حوالے سے بریفنگ دے رہے تھے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ حکومت صحت ، منصوبہ بندی کے ماہرین ، وفاقی کابینہ کے اراکین ، صوبائی وزرا اعلی ، چیف سیکرٹریز سمیت تمام متعلقہ حکام کی جانب سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر ( این سی او سی) کے پلیٹ فارم سے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کوووڈ۔ 19 سے متعلق اعدادو شمار پر اقدامات اٹھاتی ہے ، ان اعدادو شمار کے مطابق کورونا وائرس کی دوسری شدید ترین لہر آچکی ہے ، وزیراعظم عمران خان کی پالیسی کے مطابق روزگار اور عوامی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے کیونکہ ہماری کامیاب حکمت عملی کے باعث کورونا وائرس کی پہلی لہر کا کامیابی سے مقابلہ کیا گیاجس کی پوری دنیا معترف ہے اور پاکستان کی اس پالیسی کو رول ماڈل کے طور پر اپنایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں حکومت اپنا فرض سمجھتی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کی وبا سے بچائو کے لئے پارلیمنٹ کی سطح پر حکمت عملی اور اتفاق رائے پیدا کیا جائے ۔اسی سلسلے میں آج پارلیمانی کمیٹی برائے انسداد کووڈ۔19 کا اجلاس بلایا گیا لیکن اس موقع پر بھی اپوزیشن نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو بھی ماننے سے انکار کیا ، یہ لوگ جمہوریت کے دعوی کرتے ہیں لیکن پارلیمنٹ پر اعتماد نہیں کرتے ، اپوزیشن کا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کا فیصلہ غلط تھا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ملک میں معاشی سرگرمیاں ،روزگار کے مواقع، چھوٹے کاروبار چلتے رہیں اور دیہاڑی دار متاثر نہ ہو ، فیکٹریاں ،کارخانے اور کارورباری مراکز ایس او پیز کے ساتھ چلتے رہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالا دستی کے دعویدار اپنے اقدامات سے اس کی نفی کر رہے ،حکومت عوام کے تحفظ کیلئے تمام اقدامات کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی میں عدم شرکت سے اپوزیشن نے پیغام دیا ہےکہ انہیں اپنی سیاست عزیز ہے،قومی مسئلے کو سیاست کی نذر کرنا قابل افسوس ہے، پشاور جلسی کی ناکامی کے بعد اپوزیشن ہوش کے ناخن لیتے ہوئے دوسری سرگرمیاں منسوخ کر دے ۔اپوزیشن کی سیاست کا مقصداپنی کرپشن کو تحفظ دینا ہے،یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کیلئے عوام کی جانوں سے کھیل رہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینٹ اور قومی اسمبلی اجلاس کا وقت پورا کرنے کے لئے حکومت کی ٹیم اپوزیشن سے رابطہ کرے گی تاکہ سینٹ اور اسمبلی اجلاس شیڈول کا فیصلہ کیا جائے ۔








