پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس ، سینٹ اور قومی اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور نمائندوں کی شرکت طے پایا ہے کہ تمام فیصلے اتفاق رائے سے کریں گے ، خارجہ پالیسی پر تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جائے گا،سپیکر سردار ایاز صادق اسلام آباد ۔ 12 ستمبر (اے پی پی) پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس منگل کو …
پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس
پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس ، سینٹ اور قومی اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور نمائندوں کی شرکت
طے پایا ہے کہ تمام فیصلے اتفاق رائے سے کریں گے ، خارجہ پالیسی پر تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جائے گا،سپیکر سردار ایاز صادق
اسلام آباد ۔ 12 ستمبر (اے پی پی) پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس منگل کو سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا جس میں سینٹ اور قومی اسمبلی میں موجود تمام پارلیمانی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بتایا کہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نئی امریکی پالیسی برائے جنوبی ایشیا بشمول پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے اور ہمارے وزیر خارجہ کے بیرون ملک دورے کتنے کامیاب رہے جیسے امور کا جائزہ لیا گیا۔ قومی سلامتی میں یہ طے پایا ہے کہ ہم تمام فیصلے اتفاق رائے سے کریں گے اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ سپیکر نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ پالیسی کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے بھی غور کیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ تمام فریقین کو اعتماد میں لے کر طویل المدتی پالیسی تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ پالیسی پر بعض ارکان نے جارحانہ اور بعض نے معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تجویز دی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سپیکر نے کہا کہ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی قرارداد کے ذریعے امریکہ کو پاکستان کا موقف اور پاکستان کا پیغام گیا ہے۔ امریکہ کو احساس ہو گیا ہے کہ ٹرمپ نے جلد بازی میں بیان دیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں کالعدم تنظیموں اور نیشنل ایکشن پلان جیسے امور کا جائزہ لیا جائے گا۔









