پاناما کی امریکی صدر کی جانب سے پاناما کینال پر قبضہ کرنے کی دھمکی پر اقوام متحدہ سے شکایت

پاناما سٹی، بیجنگ۔22جنوری (اے پی پی):پاناما نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاناما کینال پر قبضہ کرنے کی تشویشناک دھمکی پر اقوام متحدہ سے شکایت کی ہے۔اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو لکھے گئے خط میں، پاناما سٹی کی حکومت نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے ایک آرٹیکل کا حوالہ دیا جس میں کسی بھی رکن کو کسی دوسرے کی علاقائی …

پاناما سٹی، بیجنگ۔22جنوری (اے پی پی):پاناما نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاناما کینال پر قبضہ کرنے کی تشویشناک دھمکی پر اقوام متحدہ سے شکایت کی ہے۔اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو لکھے گئے خط میں، پاناما سٹی کی حکومت نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے ایک آرٹیکل کا حوالہ دیا جس میں کسی بھی رکن کو کسی دوسرے کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف خطرہ یا طاقت کے استعمال سے منع کیا گیا ہے۔خط میں سیکرٹری جنرل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجیں ۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو بطور صدر اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ چین آبی گزرگاہ کے ارد گرد اپنی بڑھتی ہوئی موجودگی کے ذریعے پاناما کینال کوآپریٹ کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے اسے چین کو نہیں دیا، ہم نے پاناما کو دیا اور ہم اسے واپس لے رہے ہیں۔پانامہ کے صدر ہوزے راؤل ملینو نے ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں کہا کہ کینال پاناما کی ہے اور رہے گی۔ پاناما پورٹس کمپنی کے رعایتی معاہدے میں 2021 میں 25 سال کی توسیع کی گئی۔ امریکا اس کینال کا سب سے بڑا صارف ہے، اس کے بعد چین کا نمبر آتا ہے۔ پاناما کو 2000 سے اب تک اس آبی گزرگاہ سے 30بلین ڈالر آمدن حاصل ہوئی ہے جس میں گزشتہ مالی سال کی تقریباً 2.5 بلین ڈالر آمدن بھی شامل ہے۔

دریں اثنا شنہوا کے مطابق چین نے کہا ہے کہ اس نے پاناما کینال کے انتظام اور آپریشن میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی اس نے کینال کے معاملات میں کبھی مداخلت کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے بدھ کو بیان جاری بیان میں کہا کہ چین پاناما کینال پر پاناما کی خودمختاری کا مسلسل احترام کرتا ہے اور کینال کو مستقل طور پر غیر جانبدار بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔

ترجمان نے یہ ریمارکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاناما کینال کو دوبارہ حاصل کرنے کے بیان سے متعلق جواب میں کہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین پاناما کے صدر ہوزے راؤل ملینو کے اس بیان سے اتفاق کرتا ہے کہ پاناما کی خودمختاری اور آزادی پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی اور پاناما کینال پر براہ راست یا بالواسطہ کسی بڑی طاقت کا کنٹرول نہیں ہے۔