اسلام آباد۔22مارچ (اے پی پی):صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) عاطف اکرام شیخ نے عالمی یومِ آب کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پانی کا تحفظ اور اس کے ضیاع کی روک تھام وقت کی اہم ترین ضرورت اور قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جبکہ پانی کی …
پانی کا تحفظ اور اس کے ضیاع کی روک تھام وقت کی ضرورت اور قومی ذمہ داری ہے، عاطف اکرام شیخ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22مارچ (اے پی پی):صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) عاطف اکرام شیخ نے عالمی یومِ آب کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پانی کا تحفظ اور اس کے ضیاع کی روک تھام وقت کی اہم ترین ضرورت اور قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جبکہ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت معیشت اور زراعت کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی یومِ آب ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا مستقبل پانی کے مؤثر انتظام سے جڑا ہوا ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ آبی تحفظ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ یہ سماجی انصاف اور صنفی برابری کے لیے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو تیزی سے بڑھتے ہوئے آبی بحران کا سامنا ہے، جہاں قیامِ پاکستان کے بعد فی کس پانی کی دستیابی 5260 مکعب میٹر سے کم ہو کر 1000 مکعب میٹر سے بھی نیچے آ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن نے آبی قلت کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے پیشِ نظر اس مسئلے کو قومی ایمرجنسی کے طور پر حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو پانی بچاؤ مہم میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔صدر ایف پی سی سی آئی نے عالمی یومِ آب کے موقع پر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ بین الاقوامی وعدوں کے مطابق اس معاہدے پر فوری اور مکمل عملدرآمد بحال کرے۔








