سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی شخص کو غیر منقولہ جائیداد فروخت کرنے کا اختیار دینے والی پاور آف اٹارنی میں، جب تک واضح پابندی عائد نہ ہو، معاہدہ فروخت کرنے کا اختیار بھی شامل ہوتا ہےجبکہ سول پروسیجر کوڈ کی دفعہ 115 کے تحت ہائیکورٹ نظرثانی کے اختیار میں ماتحت عدالتوں کے بیک وقت حقائق پر مبنی فیصلوں کو محض مختلف رائے کی بنیاد پر تبدیل نہیں …
پاور آف اٹارنی میں جائیداد فروخت کرنے کا اختیار ہو تو معاہدہ فروخت کا اختیار بھی شامل ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔11اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی شخص کو غیر منقولہ جائیداد فروخت کرنے کا اختیار دینے والی پاور آف اٹارنی میں، جب تک واضح پابندی عائد نہ ہو، معاہدہ فروخت کرنے کا اختیار بھی شامل ہوتا ہےجبکہ سول پروسیجر کوڈ کی دفعہ 115 کے تحت ہائیکورٹ نظرثانی کے اختیار میں ماتحت عدالتوں کے بیک وقت حقائق پر مبنی فیصلوں کو محض مختلف رائے کی بنیاد پر تبدیل نہیں کر سکتی۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے زرعی اراضی سے متعلق دو سول اپیلوں کا فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ، بہاولپور بینچ کا 30 مارچ 2012ء کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور ماتحت عدالتوں کے فیصلے بحال کر دیئے۔عدالت نے قرار دیا کہ 31 اگست 1977ء کی رجسٹرڈ پاور آف اٹارنی قانون کے مطابق ثابت ہو چکی تھی اور احمد دین کو گلام باری کی جانب سے 20 جنوری 1979ء کا معاہدہ فروخت کرنے کا اختیار حاصل تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ رجسٹرڈ پاور آف اٹارنی کو قانون کے تحت اس کی باقاعدہ تکمیل اور صحت کا قانونی مفروضہ حاصل ہوتا ہے جسے محض کسی ایک گواہ کے بیان کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
پاور آف اٹارنی کی صحت کو چیلنج کرنے والے فریق کو مضبوط اور قابل اعتماد شواہد پیش کرنا ہوں گے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ماتحت عدالتوں نے زبانی اور دستاویزی شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد بیک وقت نتائج اخذ کیے تھے تاہم ہائیکورٹ نے نظرثانی کے دائرہ اختیار میں شواہد کا ازسرنو جائزہ لے کر اپنی رائے قائم کی جو قانونی طور پر درست نہیں تھا۔عدالت نے واضح کیا کہ نظرثانی کا اختیار اپیلٹ اختیار سے مختلف اور محدود ہے، اس کے تحت مداخلت اسی وقت کی جا سکتی ہے جب ماتحت عدالتوں کے فیصلے میں دائرہ اختیار کی خامی، قانونی بے قاعدگی، شواہد کی غلط قرات، اہم شواہد کو نظرانداز کرنے یا فیصلہ میں واضح بے قاعدگی موجود ہو۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جب اصل مالک کسی وکیل مختار کو جائیداد فروخت کرنے کا اختیار دیتا ہے تو اس اختیار میں فروخت کی شرائط طے کرنے اور اس سے قبل معاہدہ فروخت کرنے کا اختیار بھی شامل ہوتا ہے، کیونکہ معاہدہ فروخت ہی حتمی انتقال ملکیت کی بنیاد بنتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر پاور آف اٹارنی میں وکیل مختار کو معاہدہ فروخت کرنے سے واضح طور پر روکا نہ گیا ہو تو جائیداد فروخت کرنے کے اختیار کی ایسی محدود تشریح نہیں کی جا سکتی جس سے یہ اختیار عملاً ناقابل استعمال ہو جائے۔فیصلے کے مطابق احمد دین نے معاہدے کے تحت وصول کیے گئے 35 ہزار روپے بطور بیعانہ گلام باری کا زرعی ترقیاتی بینک کا قرض ادا کرنے کے لیے استعمال کیے جبکہ گلام باری نے بعد ازاں 21 فروری 1979ء کو اسی پاور آف اٹارنی کی منسوخی کا دستاویز بھی جاری کیا جو پاور آف اٹارنی کے سابقہ وجود کی تائید کرتا ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خریدار محمد یونس نے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اپنی آمادگی اور تیاری ثابت کی جبکہ فروخت کی تکمیل میں رکاوٹ گلام باری کی جانب سے پاور آف اٹارنی منسوخ کرنے کے بعد پیدا ہوئی۔
عدالت نے دونوں اپیلیں منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا 30 مارچ 2012ء کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور سینئر سول جج رحیم یار خان کا 29 جولائی 1986ء اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج رحیم یار خان کا 25 جولائی 2011ء کا فیصلہ بحال کر دیا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فریقین اپنے اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے۔ فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا ۔








