پاکستان،سعودی عرب وترکیہ کا دفاعی معاہدہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کا مظہر ہے، ساجدہ فاروق تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی والدہ ساجدہ فاروق تارڑ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ کی تاریخ میں ایک اہم اور فیصلہ کن پیش رفت قرار دیا ہے

لاہور۔7اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی والدہ ساجدہ فاروق تارڑ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ کی تاریخ میں ایک اہم اور فیصلہ کن پیش رفت قرار دیا ہے۔اپنے ایک بیان میں ساجدہ فاروق تارڑ نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین دفاعی تعاون مسلم دنیا کے اتحاد، اجتماعی سلامتی اور باہمی اعتماد کے فروغ کی جانب اہم قدم ہے، تین برادر اسلامی ممالک کا ایک مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت یکجا ہونا پوری امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ اطمینان اور خوش آئند امر ہے۔انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مسلم دنیا کے اتحاد اور اجتماعی سلامتی کے لیے کاوشوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان رہنمائوں کی مشترکہ کوششوں سے مسلم امہ کو اتحاد و یکجہتی کا مضبوط پیغام ملا ہے۔ساجدہ فاروق تارڑ نے مزید کہا کہ مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین سے دنیا کو یہ واضح پیغام ملا ہے کہ مسلم دنیا اپنے مشترکہ مفادات، سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے متحد ہے، مکہ مکرمہ کی چھائوں تلے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ جیسی بڑی معاشی، عسکری اور سیاسی قوتوں کا یکجا ہونا اسلامی دنیا کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی اور ترک قیادت کے ساتھ مل کر قوم کا سر فخر سے بلند کردیا ہے، پاکستان ہمیشہ مسلم دنیا کے اتحاد، اجتماعی سلامتی اور باہمی تعاون کا علمبردار رہا ہے اور آئندہ بھی ایسے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کے اتحاد پر مہر ثبت کرنے کے مترادف ہے ،اس سے مسلم ممالک کے درمیان دفاعی، سیاسی اور سفارتی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ساجدہ فاروق تارڑ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ ایسے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے جو مسلم دنیا کے اتحاد، اجتماعی سلامتی، خودمختاری اور باہمی اعتماد کو مضبوط بنائیں، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف تینوں برادر ممالک بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے امید، یکجہتی اور مضبوط مستقبل کی علامت ہے۔