اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے غزہ پٹی کے انتظام کے لیے فلسطینی قومی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ غزہ پٹی کے انتظام کے لیے نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ اسٹرپ (این سی اے جی) 14 جنوری 2026 …
پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کا غزہ پٹی کے انتظام کے لیے فلسطینی قومی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے غزہ پٹی کے انتظام کے لیے فلسطینی قومی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ غزہ پٹی کے انتظام کے لیے نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ اسٹرپ (این سی اے جی) 14 جنوری 2026 کو سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت، جامع امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے فریم ورک میں اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مشاورت سے قائم کی گئی ہے، جو ایک عارضی عبوری ادارہ ہے۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزراء خارجہ کے مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قومی کمیٹی کو غزہ کے عوام کے روزمرہ امور کی انجام دہی کے لیے فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی چاہئیں، جبکہ مغربی کنارے اور غزہ پٹی کے درمیان ادارہ جاتی اور علاقائی ربط کو برقرار رکھا جائے، غزہ کی وحدت کو یقینی بنایا جائے اور اسے تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا جائے۔وزراءخارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے اعلان کی حمایت کرتے ہوئے غزہ پٹی میں جنگ کے خاتمے، اسرائیلی فوج کے انخلا، مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کی روک تھام اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ہے ۔
جنگ بندی کو مستحکم بنانے، خلاف ورزیوں کے سدباب اور غزہ پٹی میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔غزہ میں ابتدائی بحالی اور تعمیرِ نو کے عمل کے آغاز اور فلسطینی اتھارٹی کی وہاں واپسی اور ذمہ داریاں سنبھالنے کی راہ ہموار کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ مشترکہ بیان میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، عرب امن اقدام اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد غزہ اور مغربی کنارے سمیت تمام فلسطینی علاقوں پر قبضے کا خاتمہ اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔








