پاکستانی آٹو انڈسٹری کا مستقبل مسابقتی لوکلائزیشن اور الیکٹرک موبیلٹی سے وابستہ ہے،وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کا مستقبل مسابقتی لوکلائزیشن، جدید ٹیکنالوجی اور الیکٹرک موبیلٹی میں مضمر ہے۔

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کا مستقبل مسابقتی لوکلائزیشن، جدید ٹیکنالوجی اور الیکٹرک موبیلٹی میں مضمر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل آٹو شو 2026 کے دوسرے روز لاہور انٹرنیشنل ایکسپو سینٹر میں پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایسیسریز مینوفیکچررز (PAAPAM)کے زیرِ اہتمام منعقدہ سمپوزیم سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سمپوزیم کا موضوع ’’مسابقت۔لوکلائزیشن اور الیکٹرک موبیلٹی‘‘ تھا۔اپنے خطاب سے قبل رانا احسان افضل خان نے ملکی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے سٹالز اور PAAPAM پویلینز کا دورہ کیا۔ انہوں نے گاڑیاں تیار کرنے والی مختلف کمپنیوں، بالخصوص ابھرتے ہوئے الیکٹرک وہیکل مینوفیکچررز کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کی ترقی میں ان کے کردار کو سراہا۔سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے کہا کہ آٹو سیکٹر میں لوکلائزیشن کا عمل محض مقامی پیداوار تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے عالمی اور مقامی سطح پر مسابقت، بہتر معیار، قابلِ اعتماد مصنوعات اور صارفین کو زیادہ انتخاب فراہم کرنے کے اہداف سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیار ہونے والی ہر گاڑی کے پیچھے پرزہ سازوں، انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور کارکنوں پر مشتمل ایک وسیع سپلائی چین موجود ہے۔ آٹو موبائل سیکٹر قومی مجموعی پیداوار میں تقریباً چار فیصد حصہ ڈالتا ہے اور لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود آٹو انڈسٹری کی ترقی، استقامت اور کارکردگی قابل ذکر ہے، وقت آگیا ہے کہ صنعت مستقبل کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی، جدت اور بالخصوص الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کی جانب تیزی سے پیش رفت کرے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے ساتھ ایسی پالیسیاں جاری رکھے گی جو جامع، مستقل، شفاف اور تمام سٹیک ہولڈرز کے لیے منصفانہ ہوں۔