پاکستانی تعمیراتی شعبے کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ماحول دوست طریقوں کی طرف منتقل ہونا ہوگا، ماہرین

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے تعمیراتی شعبے کو موسمیاتی تبدیلیوں سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے فوری طور پر جدید اور ماحول دوست طریقوں کی طرف منتقل ہونا ہوگا بصورت دیگر آئندہ برسوں میں ماحولیاتی اور معاشی چیلنجز میں شدت آ سکتی ہے۔

اسلام آباد۔22اپریل (اے پی پی):ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے تعمیراتی شعبے کو موسمیاتی تبدیلیوں سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے فوری طور پر جدید اور ماحول دوست طریقوں کی طرف منتقل ہونا ہوگا بصورت دیگر آئندہ برسوں میں ماحولیاتی اور معاشی چیلنجز میں شدت آ سکتی ہے۔ یہ بات انہوں نے عالمی یوم ارض کے موقع پر ایمپیک سٹریٹجیز کے زیر اہتمام منعقدہ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔چیف آپریٹنگ آفیسر اور ایئرپورٹ منیجر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سید آفتاب گیلانی (جنہیں انفراسٹرکچر مینجمنٹ کا وسیع تجربہ حاصل ہے)نے کہا کہ پاکستان میں پالیسیوں کی کمی نہیں بلکہ اصل مسئلہ ان پر عملدرآمد کا ہے۔ انہوں نے گرین بلڈنگ اور پائیدار تعمیرات کے فروغ کے لیے پالیسی سے عملدرآمد کی جانب واضح پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی جیسے اے آئی بیسڈ بلڈنگ مینجمنٹ سسٹمز اور پبلک ٹرانسپورٹ منصوبے اس سمت میں مثبت اقدامات ہیں۔ڈاکٹر محمد ارشد (جو آبی وسائل کے انتظام اور موسمیاتی منصوبہ بندی میں 25 سال سے زائد تجربہ رکھتے ہیں)نے کہا کہ پاکستان کے لیے پانی کا مسئلہ انتہائی اہم اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شہری تعمیرات میں رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹمز کو لازمی جزو بنایا جائے تاکہ پانی کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے چیف ایڈوائزر ارشد داد( جو تعمیراتی شعبے میں چار دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں)نے کہا کہ گرین بلڈنگ کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ مالی وسائل کی کمی ہے۔ ان کے مطابق توانائی موثر عمارتیں طویل مدت میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں تاہم ابتدائی لاگت زیادہ ہونے کے باعث عام افراد اور ڈویلپرز کے لیے انہیں اپنانا مشکل ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے کی جدید کاری پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ ملک کا 93 فیصد پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے اس لیے اس شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ویبینار کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومت کو گرین تعمیرات کے فروغ کے لیے ٹیکس میں رعایت، سبسڈی اور آسان قرضوں کی فراہمی جیسے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ماہرین نے تجویز دی کہ ماڈل گرین بلڈنگ منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ عوام میں آگاہی پیدا ہو اور عملی مثالیں سامنے آئیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تعمیراتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور متعلقہ اداروں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں