سینیٹر عامر ولی الدین چشتی اورسینیٹر محمد طلحہ محمود کی قیادت میں اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے 15 تا 19 اپریل استنبول میں 152ویں بین الپارلیمانی یونین (IPU) اسمبلی کے موقع پر اہم دوطرفہ اور کثیرالجہتی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد پارلیمانی سفارتکاری کو فروغ دینا اور بین الاقوامی تعاون کو مستحکم کرنا تھا۔
پاکستانی پارلیمانی وفد کی استنبول میں آئی پی یو اسمبلی کے دوران اہم ملاقاتیں

مزید خبریں
استنبول۔20اپریل (اے پی پی):سینیٹر عامر ولی الدین چشتی اورسینیٹر محمد طلحہ محمود کی قیادت میں اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے 15 تا 19 اپریل استنبول میں 152ویں بین الپارلیمانی یونین (IPU) اسمبلی کے موقع پر اہم دوطرفہ اور کثیرالجہتی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد پارلیمانی سفارتکاری کو فروغ دینا اور بین الاقوامی تعاون کو مستحکم کرنا تھا۔اسمبلی کے دوران پاکستانی وفد نے شامی پارلیمانی وفد کے ساتھ باضابطہ ملاقات کی، جس میں دونوں جانب سے باہمی پارلیمانی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مکالمے، تجربات کے تبادلے اور بین الپارلیمانی روابط کے ذریعے تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔پاکستانی وفد نے کینیڈا کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور کینیڈین پارلیمانی وفد، جس کی قیادت سینیٹر سلمیٰ عطااللہ جان کر رہی تھیں، کے ساتھ تعمیری تبادلہ خیال کیا۔
سینیٹر عامر ولی الدین چشتی اور سینیٹر محمد طلحہ محمود نے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔مزید برآں، پاکستانی وفد نے زیمبیا کے رکن پارلیمنٹ اور دولتِ مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن (CPA) کے چیئرپرسن کرسٹوفر کالیلا، اور سی پی اے سیکرٹریٹ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل جاروس سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں جمہوری استحکام میں پارلیمانی اداروں کے کردار، قانون سازی کے مشترکہ تجربات اور دولتِ مشترکہ کے رکن ممالک کے پارلیمانوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی وفد نے اسمبلی کی کارروائی میں بھرپور شرکت کی اور دنیا بھر سے آئے ہوئے پارلیمنٹیرینز کے ساتھ غیر رسمی ملاقاتیں بھی کیں، جس میں پاکستان کے کثیرالجہتی تعاون، جامع مکالمے اور پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے امن، ترقی اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کے عزم کو اجاگر کیا گیا۔152ویں آئی پی یو اسمبلی میں دنیا بھر سے پارلیمانی رہنما اور اراکین شریک ہوئے، جس نے عالمی سطح پر درپیش معاصر چیلنجز پر گفتگو اور ان کے حل میں پارلیمانوں کے کلیدی کردار کو اجاگر کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔








