اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے وزارت تجارت میں تفصیلی ملاقات کی ۔ اس موقع پر تجارت، سرمایہ کاری، کان کنی، زراعت، توانائی اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر توجہ دی گئی۔ ملاقات کے موقع پر وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل خان بھی موجود تھے۔ وزارت …
پاکستان۔ کینیڈا تجارت کے فروغ ، کان کنی اور زرعی تعاون میں اضافہ کے اقدامات کو وسعت دیں گے،وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے وزارت تجارت میں تفصیلی ملاقات کی ۔ اس موقع پر تجارت، سرمایہ کاری، کان کنی، زراعت، توانائی اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر توجہ دی گئی۔ ملاقات کے موقع پر وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل خان بھی موجود تھے۔
وزارت تجارت کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات کے دوران فریقین نے ابھرتے ہوئے عالمی اقتصادی منظرنامے کا جائزہ لیا اور سپلائی چینز اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے درمیان موافقت پذیر تجارتی حکمت عملیوں کی ضرورت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر نے شراکت داری کو متنوع بنانے اور معیاری غیر ملکی سرمایہ کاری بالخصوص ویلیو ایڈنگ اور ایکسپورٹ پر مبنی شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا۔ گفتگو کے دوران کان کنی اور معدنیات کے شعبے میں تعاون کو بنیادی اہمیت دی گئی۔
جام کمال خان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کان کنی کے منصوبوں کو فروغ دینے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو اجاگر کیا اور تلاش کی جدید تکنیکوں، سروے کی مہارت اور ذمہ دار مائننگ گورننس کی اہمیت پر زور دیا۔
کینیڈین ہائی کمشنر نے کان کنی کی خدمات اور ایکسپلوریشن ٹیکنالوجیز میں کینیڈا کی عالمی قیادت پر روشنی ڈالتے ہوئے صلاحیت بڑھانے کے اقدامات، تکنیکی معاونت اور کاروبار سے کاروبار کے درمیان میچ میکنگ کے ذریعے پاکستان کی مدد کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔اس تناظر میں فریقین نے ٹورنٹو میں پراسپیکٹرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن آف کینیڈا (PDAC) کانفرنس میں پاکستان کی شرکت پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں پاکستانی کان کنوں کو معروف کینیڈین ایکسپلوریشن کمپنیوں اور خدمات فراہم کرنے والوں سے استفادہ کرنے پر زور دیا گیا۔
ملاقات میں زرعی تعاون خاص طور پر پاکستان کو کینیڈین کینولا کی برآمدات کی حالیہ بحالی کے حوالے سے بھی جائزہ لیا گیا۔ فریقین نے کامیاب ابتدائی ترسیل کو سراہا اور بروقت درآمدات کو یقینی بنانے کے لیے ریگولیٹری اور طریقہ کار کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے حوالہ سے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کینولا پاکستان کے خوردنی تیل اور لائیو سٹاک فیڈ کے شعبوں کے لیے ایک اہم جزو ہے۔ انہوں نے زراعت، زرعی کاروبار اور فوڈ سکیورٹی میں وسیع تعاون کا خیرمقدم کیا۔ گفتگو میں ڈیری اور لائیو سٹاک کی ترقی میں ممکنہ تعاون میں مزید وسعت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں جانوروں کی جینیات، جدید ڈیری فارمنگ ٹیکنالوجیز اور بیماریوں پر قابو پانے کے طریقہ کار شامل ہیں۔
جس کا مقصد پاکستان میں پیداواری صلاحیت اور معیار کا فروغ ہے۔ توانائی کے شعبہ کے حوالہ سے کینیڈین ہائی کمشنر نے پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں کینیڈین سرمایہ کاری سے متعلق مسائل کے حل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ریگولیٹری مشکلات کے خاتمہ اور بروقت منظوری کی اہمیت پر زور دیا۔
فریقین نے پاکستان-کینیڈا دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے (BIT) پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور زیادہ سے زیادہ کینیڈین سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے مذاکرات میں حالیہ پیش رفت کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ ملاقات کا اختتام ادارہ جاتی روابط کو مضبوط کرنے، نجی شعبے کی شمولیت کو بڑھانے اور آئندہ مہینوں میں پاکستان-کینیڈا کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کو آگے بڑھانے کے مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا۔








