پاکستان ،کمبوڈیا مشترکہ تجارتی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس ، مختلف شعبوں میں تجارت ، سرمایہ کاری اور تعاون کو بڑھانے کے نئے راستے تلاش کرنے پر مشاورت

اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):پاکستان-کمبوڈیا مشترکہ تجارتی کمیٹی کے افتتاحی اجلاس میں دونوں ممالک کے مختلف شعبوں میں تجارت ، سرمایہ کاری اور تعاون کو بڑھانے کے نئے راستے تلاش کرنے پر مشاورت کی گئی۔ منگل کو یہاں جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پاکستان کے سٹریٹجک محل وقوع ، بڑھتی ہوئی معیشت اور سرمایہ کاری کے لیے موافق پالیسیوں پر روشنی ڈالی …

اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):پاکستان-کمبوڈیا مشترکہ تجارتی کمیٹی کے افتتاحی اجلاس میں دونوں ممالک کے مختلف شعبوں میں تجارت ، سرمایہ کاری اور تعاون کو بڑھانے کے نئے راستے تلاش کرنے پر مشاورت کی گئی۔

منگل کو یہاں جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پاکستان کے سٹریٹجک محل وقوع ، بڑھتی ہوئی معیشت اور سرمایہ کاری کے لیے موافق پالیسیوں پر روشنی ڈالی اور کمبوڈیا کے سرمایہ کاروں کو زراعت ، ٹیکسٹائل ، دواسازی اور سیاحت میں مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی ۔

انہوں نے کاروبار کرنے میں آسانی اور جنوبی ایشیا ، وسطی ایشیا اور مشرق وسطی کی کلیدی منڈیوں کے گیٹ وے کے طور پر اس کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان سے ایڈیشنل سیکرٹری آف کامرس اور پچ رتھی ، سکریٹری آف سٹیٹ ، وزارت تجارت کمبوڈیا نے کی۔ اجلاس میں تجارت ، صحت ، بینکنگ ، زراعت ، ہوا بازی اور کسٹم سمیت باہمی مفادات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس میں کمبوڈیا کے وزیر تجارت نے جے ٹی سی کی پہلی میٹنگ کو اہم سنگ میل قرار دیا ۔

انہوں نے جام کمال خان کی طرف سے دی گئی باضابطہ دعوت کے بعد اسلام آباد میں جے ٹی سی کے دوسرے اجلاس کے لیے پاکستان آنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے آسیان خطے کے اندر کمبوڈیا کی مارکیٹ تک وسیع رسائی پر بھی روشنی ڈالی اور علاقائی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مشترکہ منصوبوں کی تلاش کی حوصلہ افزائی کی ۔ دونوں وزراء جے ٹی سی کی پہلی میٹنگ کے متفقہ منٹس پر دستخط کی تقریب میں موجود تھے ۔ دونوں فریقوں نے مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یو) کے لیے مذاکرات میں تیزی لانے اور تعاون بڑھانے کے لیے فوکل پرسنز کے تقرر پر اتفاق کیا ۔

انہوں نے تجارت سے متعلق معلومات کا اشتراک کرنے ، تجارتی وفود کو منظم کرنے اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان براہ راست روابط کو آسان بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ کمبوڈیا کی طرف سے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) اور ترجیحی تجارتی طریقوں کے ذریعے مارکیٹ تک اپنی مضبوط رسائی کا اظہار کیا جس سے پاکستانی سرمایہ کاروں کو علاقائی اور عالمی منڈیوں سے فائدہ اٹھانے کے مواقع فراہم ہونگے ۔

جے ٹی سی کے متفقہ منٹس میں آئی سی ٹی ، ای کامرس ، زراعت اور صحت کے شعبے میں تعاون کے منصوبوں پر روشنی ڈالی گئی ۔ دونوں ممالک نے ہوا بازی ، بینکنگ اور کسٹم تعاون کے لیے مفاہمت ناموں میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا مجموعی حجم 45.5 ملین ڈالر ہے جس کو بڑھانے کے لئے دونوں فریقوں نے اہم غیر استعمال شدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور مضبوط تعلقات کی تعمیر کے عزم کا اظہار کیا۔

اجلاس کا اختتام مثبت انداز میں ہوا جس میں گہری اقتصادی اور ثقافتی شراکت داری کی بنیاد رکھی گئی ۔ جے ٹی سی کا اگلا اجلاس پاکستان میں ہوگا جس کی تاریخوں کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا ۔

مزید خبریں