اسلام آباد ۔ 6 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان ادارہ جاتی اصلاحات اور اقتصادی ترقی کیلئے عالمی بینک کی تکنیکی امداد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو یہاں عالمی بینک کی نائب صدر سیلا پیزار باسی اوگلو سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ پاکستان میں عالمی بینک کے …
پاکستان ادارہ جاتی اصلاحات اور اقتصادی ترقی کیلئے عالمی بینک کی تکنیکی امداد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی عالمی بینک کی نائب صدر سیلا پیزار باسی اوگلو سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان ادارہ جاتی اصلاحات اور اقتصادی ترقی کیلئے عالمی بینک کی تکنیکی امداد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو یہاں عالمی بینک کی نائب صدر سیلا پیزار باسی اوگلو سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ایلانگو پیچاموتھو بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم کے مشیر نے عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کیلئے امداد اور تعاون کو سراہا۔ انہوں نے عالمی بینک کے عہدیداروں کو پاکستان میں عالمی بینک کے مستقبل کے منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد کیلئے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی بتایا۔ عالمی بینک کی نائب صدر نے معیشت کے استحکام کیلئے حکومت کے اصلاحات کے پروگرام کی تعریف کی۔ عالمی بینک کی ٹیم نے کاروبار میں آسانیوں کے حوالہ سے عالمی رینکنگ میں پاکستان کی بہتری پر وزیراعظم کے مشیر کو مبارکباد دی۔ عالمی بینک کی ٹیم نے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے ساتھ رائز پروگرام کے حوالہ سے تبادلہ خیال کیا۔ اس میں فنانس ڈویژن میں ڈیٹ مینجمنٹ آفس کا قیام بھی شامل ہے۔ ملاقات میں ٹیکس کے نظام کو ہم آہنگ کرنے، گردشی قرضوں اور قومی ٹیرف پالیسی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ عالمی بینک کی ٹیم نے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو پاکستان میں محصولات میں اضافہ اور پاکستان بھر میں سیلز ٹیکس کے نظام کو ہم آہنگ کرنے کیلئے عالمی بینک کے تعاون بارے آگاہ کیا۔ ٹیم نے وزیراعظم کے مشیر کو 400 ملین ڈالر لاگت کے رائز پروگرام کے بارے میں آگاہی دی جس کا بنیادی مقصد ٹیکس جمع کرانے میں ایف بی آر کو تعاون فراہم کرنا ہے۔ اس پراجیکٹ کے تحت سال 2023-24ء تک جی ڈی پی کے تناسب سے 17 فیصد ٹیکس اور ٹیکس نیٹ کو تین ملین فائلرز تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔








