پاکستان انجینئرنگ کونسل کا تاریخی سنگِ میل، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں چارٹرڈ پراجیکٹ ڈائریکٹرز کے پہلے بیچ کی پاسنگ آؤٹ تقریب

پاکستان انجینئرنگ کونسل ( پی ای سی ) نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ( این ڈی یو ) اسلام آباد میں چارٹرڈ پراجیکٹ ڈائریکٹرز (Ch.PD) کے پہلے بیچ کی کامیاب تکمیل کے ساتھ ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ یہ اقدام پاکستان میں اسٹریٹجک اور پیچیدہ انجینئرنگ منصوبوں کی منصوبہ بندی، گورننس اور مؤثر تکمیل کے لیے پراجیکٹ لیڈرشپ کے باقاعدہ سرٹیفکیشن کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار …

اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):پاکستان انجینئرنگ کونسل ( پی ای سی ) نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ( این ڈی یو ) اسلام آباد میں چارٹرڈ پراجیکٹ ڈائریکٹرز (Ch.PD) کے پہلے بیچ کی کامیاب تکمیل کے ساتھ ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ یہ اقدام پاکستان میں اسٹریٹجک اور پیچیدہ انجینئرنگ منصوبوں کی منصوبہ بندی، گورننس اور مؤثر تکمیل کے لیے پراجیکٹ لیڈرشپ کے باقاعدہ سرٹیفکیشن کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ سرٹیفکیشن پروگرام چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل انجینئر وسیم نذیر کے وژن کے تحت تشکیل، ڈیزائن اور متعارف کرایا گیا، جو پاکستان میں پراجیکٹ لیڈرشپ کے نظام میں ایک بنیادی تبدیلی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پروگرام کا مقصد ایسے پراجیکٹ ڈائریکٹرز تیار کرنا ہے جو منصوبوں کی مکمل ذمہ داری سنبھال سکیں، بروقت اور مؤثر فیصلے کریں، گورننس اور احتساب کو مضبوط بنائیں اور عملی نتائج دیں۔یہ پروگرام جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے جو اس سطح پر پراجیکٹ ڈائریکٹرز کی سرٹیفکیشن کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

پروگرام پاکستان میں منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر، لاگت میں اضافے، کمزور فیصلہ سازی، معاہداتی تنازعات اور گورننس سے متعلق مسائل جیسے دیرینہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ سرٹیفائیڈ پراجیکٹ ڈائریکٹرز کو پراجیکٹ گورننس، اسٹریٹجک فیصلہ سازی، رسک مینجمنٹ، کنٹریکٹ ایڈمنسٹریشن، تنازعات سے بچاؤ، لاگت اور شیڈول کنٹرول، شفافیت اور احتساب کے شعبوں میں جدید مہارتیں فراہم کی گئی ہیں۔پاسنگ آؤٹ تقریب نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے چارٹرڈ پراجیکٹ ڈائریکٹر اقدام کو ایک ’’آئیکونک پراجیکٹ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس پروگرام کا تصور اور ڈیزائن چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل انجینئر وسیم نذیر نے پیش کیا۔ انہوں نے پراجیکٹ لیڈرشپ کے لیے ایک منظم سرٹیفکیشن فریم ورک متعارف کرانے پر پاکستان انجینئرنگ کونسل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی ترقی کے لیے نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے مزید کہا کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اس اقدام کو حکومتی سطح پر غور کے لیے باضابطہ طور پر پیش کرے گی تاکہ پیچیدہ انجینئرنگ منصوبوں کے لیے سرٹیفائیڈ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی اہلیت کو لازمی شرط بنانے پر غور کیا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پلاننگ کمیشن کو منصوبہ بندی، گورننس اور منصوبوں کی مؤثر تکمیل کے تناظر میں اس اقدام کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل نے اس پروگرام کی کامیاب تکمیل میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی شراکت، ادارہ جاتی تعاون اور کردار کو سراہا۔ انجینئرنگ کونسل کے مطابق دونوں اداروں کے درمیان یہ اشتراک اس بات کی مثال ہے کہ اسٹریٹجک ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے قومی ترقی کے لیے اعلیٰ معیار کی پیشہ ورانہ قیادت تیار کی جا سکتی ہے۔سرکاری اور نجی شعبے کے متعدد نمایاں اداروں نے پہلے بیچ کے لیے اپنے باصلاحیت سینئر انجینئرز کو نامزد کیا، جو اس اقدام اور اس کی قومی اہمیت پر بھرپور اعتماد کا مظہر ہے۔

چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل انجینئر وسیم نذیر نے پراجیکٹ لیڈرشپ کو محض انتظامی ذمہ داری کے بجائے ایک خصوصی، جوابدہ اور سرٹیفائیڈ پیشہ ورانہ ذمہ داری میں تبدیل کرنے کے وژن کی قیادت کی ہے۔ توقع ہے کہ یہ اقدام چارٹرڈ پراجیکٹ ڈائریکٹرز کی ایک مضبوط افرادی قوت تیار کرے گا، جو قومی ترقیاتی ترجیحات کو بروقت، مقررہ لاگت کے اندر اور مضبوط گورننس کے ساتھ قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوگی۔

پاکستان انجینئرنگ کونسل کے مطابق چارٹرڈ پراجیکٹ ڈائریکٹرز کے پہلے بیچ کی کامیاب تکمیل محض ایک سرٹیفکیشن پروگرام کا اختتام نہیں بلکہ پاکستان میں پراجیکٹ لیڈرشپ کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔پاکستان انجینئرنگ کونسل نے تمام نئے سرٹیفائیڈ چارٹرڈ پراجیکٹ ڈائریکٹرز، شراکت دار اداروں اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کو اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔