پاکستان اوربین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کا باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ، وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب سے آئی ایف سی کے پاکستان، افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کے ڈویژنل ڈائریکٹر سائمن انڈریو کی ملاقات

پاکستان اوربین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کا باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ، وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب سے آئی ایف سی کے پاکستان، افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کے ڈویژنل ڈائریکٹر سائمن انڈریو کی ملاقات

اسلام آباد۔1اپریل (اے پی پی):پاکستان اوربین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن(آئی ایف سی) نے باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے، ترجیحی اقدامات پر تیز رفتار عملدرآمد کو یقینی بنانے اورعالمی بینک گروپ کے تمام دستیاب مالیاتی و تکنیکی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں اصلاحات کے ایجنڈے، نجی شعبے کی ترقی اور پائیدار و جامع اقتصادی نمو کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ بات بدھ کویہاں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمداورنگزیب اور آئی ایف سی کے پاکستان، افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کے ڈویژنل ڈائریکٹر سائمن انڈریو کے درمیان ملاقات میں کہی گئی۔ اس موقع پر پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹربولورماآمگابازراور آئی ایف سی کی کنٹری منیجرناز خان بھی موجود تھیں۔وزیر خزانہ نے سائمن انڈریو کی حالیہ تقرری کاخیرمقدم کرتے ہوئے گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں آئی ایف سی کی بڑھتی ہوئی شمولیت خصوصاً سرمایہ کاری، تجارتی مالیات اور مشاورتی معاونت کے شعبوں میں تعاون کو سراہا۔

انہوں نے آئی ایف سی کی مقامی سطح پر قیادت اور بروقت ردِعمل کے مثبت اثرات کی تائیدکرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح کی نمائندگی میں اضافے سے باہمی تعاون اور منصوبوں کی تکمیل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔آئی ایف سی کے وفد نے وزیر خزانہ کو پاکستان میں اپنے بڑھتے ہوئے سرمایہ کاری پورٹ فولیو کے بارے میں بریفنگ دی جو اب سالانہ 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، اسی طرح رواں سال تقریباً 2.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم بھی کیا گیا ہے۔ اہم شعبوں میں مالیاتی سیکٹر کی معاونت شامل ہے، جس میں رسک شیئرنگ اور گارنٹی سہولیات کے ذریعے تجارت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کی فنانسنگ کو فروغ دینا، زرِ مبادلہ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے مقامی کرنسی میں قرضوں کی فراہمی میں توسیع، اور آئندہ اقدامات جیسے متنوع پیمنٹ رائٹس فسیلٹی اور ایک بڑے مقامی بینک کے ساتھ گرین بانڈ کے اجرا کا منصوبہ شامل ہے۔

ملاقات میں خصوصاً بنیادی ڈھانچے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو مزید بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ملاقات میں بتایاگیاکہ اگرچہ شہری پانی کے انتظام اور تقسیم کی کارکردگی کے منصوبوں جیسے شعبوں میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ زیادہ بڑے پیمانے کی نجی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے قابلِ مالیات منصوبوں کی مضبوط فہرست تیار کرنے اور توانائی، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں بہتر رابطہ کاری کی ضرورت ہے۔وزیر خزانہ نے خصوصاً نجی شعبے کی ترقی کو سہارا دینے اور شرح مبادلہ کے خطرات کم کرنے کے لیے مقامی کرنسی میں قرضوں کی سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے مالیاتی حل کے لیے صارفین پر مبنی نقطہ نظر اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات غیر ملکی کرنسی کی آمد کا متبادل نہیں بلکہ اس کی تکمیل ہیں اور پائیدار اقتصادی توسیع کے لیے ناگزیر ہیں۔

اجلاس میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کاروباری صلاحیت اور جدت کے فروغ میں تعاون بھی زیرِ بحث آیا، جس میں وینچر کیپیٹل کے نظام کی تشکیل اور پالیسی سازی میں نجی شعبے کی شمولیت کو مضبوط بنانے کی تجاویز شامل تھیں۔ فریقین نے حکومت اور کاروباری حلقوں کے درمیان مکالمے کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کے طریقہ کار پر بھی غور کیا تاکہ مؤثر اور بروقت پالیسی سازی کو یقینی بنایا جا سکے۔وسیع تر گفتگو میں علاقائی اقتصادی روابط، خصوصاً وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تعاون اور زرعی کاروبار ، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی روابط میں ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر بھی بات کی گئی۔

وزیر خزانہ نے وفد کو حکومت کی جانب سے عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود کلی معیشت کے استحکام برقرار رکھنے کی جاری کوششوں سے بھی آگاہ کیا جن میں توانائی کی سپلائی چینز کا مؤثر انتظام، مالیاتی نظم و ضبط اور ہدفی سبسڈی فریم ورک شامل ہیں۔فریقین نے باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے، ترجیحی اقدامات پر تیز رفتار عملدرآمد کو یقینی بنانے اورعالمی بینک گروپ کے تمام دستیاب مالیاتی اور تکنیکی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں اصلاحات کے ایجنڈے، نجی شعبے کی ترقی اور پائیدار و جامع اقتصادی نمو کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔