"ایک تحقیق کے مطابق گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب سے متعلق 76.8 فیصد میڈیا کوریج صرف مسئلے کی نشاندہی تک محدود رہی، جبکہ حل اور تدارک کے پہلوؤں پر توجہ نسبتاً کم دی گئی۔”
گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے سیلاب، 76.8 فیصد میڈیا کوریج صرف مسئلے کی نشاندہی تک محدود، تحقیق

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):پاکستان کے بڑے اخبارات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) سے آنے والے سیلاب اور اس کے تباہ کن اثرات کی کوریج زیادہ تر واقعاتی اور محدود نوعیت کی رہی جبکہ 76.8 فیصد خبریں صرف مسئلے کی نشاندہی تک محدود رہیں اور تیاری، ابتدائی انتباہ، موسمیاتی موافقت اور طویل المدتی لچک جیسے حل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
یہ بات موسمیاتی پالیسی کے ماہر اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ایم فل ریسرچ اسکالر محمد سلیم شیخ کی نئی تحقیقی سٹڈی میں سامنے آئی ہے۔پاکستان کے قومی اخبارات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب کی فریمنگ‘‘ کے عنوان سے کی جانے والی تحقیق میں مختلف انگلش اور اردو اخبارات میں یکم جون سے 30 ستمبر کے دوران 2023 اور 2024 میں شائع ہونے والی GLOF سے متعلق خبروں،اداریوں اور مضامین کا تجزیہ کیا گیا۔تحقیق میں مجموعی طور پر 207 خبریں، اداریے اور مضامین شامل کیے گئے۔تحقیق کا مقصد GLOF کوریج کی تعداد، اہمیت، موضوعات، فریمنگ اور مسائل یا حل پر مبنی نوعیت کا جائزہ لینا تھا۔ یہ تحقیق پروفیسر ڈاکٹر ثاقب ریاض کی نگرانی میں مکمل ہوئی جو اے آئی او یو کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سابق چیئرمین اور امریکا کی انڈیانا یونیورسٹی کے پوسٹ ڈاکٹریٹ اسکالر ہیں۔تحقیق کے مطابق GLOF سے متعلق میڈیا کوریج میں اس وقت اضافہ ہوا جب واقعات رونما ہوئے، تاہم خطرات میں کمی، پیشگی تیاری، ابتدائی انتباہ اور موسمیاتی موافقت جیسے اہم پہلوؤں پر مسلسل توجہ کم رہی۔ انگریزی اخبارات نے اردو اخبارات کے مقابلے میں زیادہ اور نسبتاً تفصیلی کوریج دی، تاہم GLOF سے متعلق خبریں شاذ و نادر ہی صفحہ اول پر نمایاں ہوئیں۔اقتصادی اثرات کا فریم سب سے زیادہ نمایاں رہاجس کے بعد تنازع اور انسانی دلچسپی کے فریم آئے۔ کوریج میں فوری نقصانات اور تباہی کوطویل المدتی حکمت عملی، لچک اور پالیسی اقدامات پر ترجیح دی گئی۔وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کےڈائریکٹر جنرل محمد آصف صاحبزادہ نے کہا کہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں تقریباً 20 لاکھ افراد کو GLOF کے بار بار آنے والے خطرات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ GLOF کے خطرے کی شدت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ میڈیا کے ذریعے مسلسل اور مؤثر معلومات فراہم کی جائیں تاکہ مقامی آبادی ابتدائی انتباہ، حفاظتی اقدامات اور بروقت انخلا سے متعلق خطرات کو بہتر طور پر سمجھ سکے اور ادارہ جاتی ردعمل مزید مضبوط ہو۔ تحقیق کے نگران پروفیسر ڈاکٹر ثاقب ریاض نے کہا کہ GLOF کو محض آفات سے نمٹنے کا مسئلہ نہیں بلکہ ابلاغی چیلنج بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو واقعاتی رپورٹنگ سے آگے بڑھ کر مسلسل، مقامی تناظر اور حل پر مبنی کوریج کی طرف جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ پاکستان کے ماہر ماحولیات اور GLOF رسک ریڈکشن منصوبے کے سابق نیشنل پروجیکٹ مینیجر خلیل احمد نے کہا کہ مؤثر ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کے لیے ابتدائی انتباہی نظام اور عملی اقدامات کے ساتھ مسلسل عوامی آگاہی اور بروقت، قابل فہم معلومات بھی ناگزیر ہیں۔تحقیق میں صحافیوں کی خصوصی تربیت، موسمیاتی اور ڈیزاسٹر رسک ماہرین کے ساتھ میڈیا کے تعاون اور مقامی آبادی کی آوازوں کو کوریج کا حصہ بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔محمد سلیم شیخ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں اپنا ایم فل مقالہ پروفیسر ڈاکٹر سید حسن رضا، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز کی سربراہی میں قائم وائوا کمیٹی کے سامنے کامیابی سے دفاع کیا۔ کمیٹی میں پروفیسر ڈاکٹر بخت روان، ڈاکٹر بابر حسین، ڈاکٹر شاہد حسین اور ڈاکٹر سعدیہ انور پاشا شامل تھے۔







