پاکستان اور افغانستان مذہب ،زبان، تاریخ اور ثقافت کے اٹوٹ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، ڈپٹی سپیکرقومی اسمبلی قاسم خان سوری کی افغان وزیر برائے صنعت و تجارت نثار احمد گوریانی سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):ڈپٹی سپیکرقومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان مذہب ،زبان، تاریخ اور ثقافت کے اٹوٹ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین صدیوں پر محیط برادرانہ تعلقات ہیں اور پاکستان ان تاریخی برادرانہ تعلقات کو اقتصادی و پارلیمانی رابطوں کو فروغ دے کر مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا …

اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):ڈپٹی سپیکرقومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان مذہب ،زبان، تاریخ اور ثقافت کے اٹوٹ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین صدیوں پر محیط برادرانہ تعلقات ہیں اور پاکستان ان تاریخی برادرانہ تعلقات کو اقتصادی و پارلیمانی رابطوں کو فروغ دے کر مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار افغانستان کے وزیر برائے صنعت و تجارت نثار احمد گوریانی اور افغانستان کے وولسی جرگہ کےچیئر مین برائے صحت ، کھیل اور امور نوجوانان کے کمیشن کے چیئر مین نجیب اللہ نصیر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے بدھ کوپارلیمنٹ میں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری سے ملاقات کی۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا قیام چاہتا ہے اور بین الاافغان مذکرارت کی حمایت کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن و خوشحالی افغانستان میں امن و خوشحالی سے وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت افغانستان کے ساتھ تجارت و اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی آف پاکستان میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں پاک۔افغان فرینڈ شپ گروپ کی ایگزیکٹوکمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں کے لیے ایک فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹیو کمیٹی کی سفارشات پر حکومت نے افغانستان کے لیے آزادانہ ویزا پالیسی کے اجراکے علاوہ دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں حائل رکاوٹوں کو دور رکرنے کے لیے متعدد اقدامات اُٹھائے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان تجارت و سرمایہ کاری فورم 2020کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں دونوں ممالک میں تعلقات کو مستحکم ہوتا نہیں دیکھ سکتں اور دونوں ممالک میں دہشتگردی پھیلا کر اور دیگر ذرائع استعمال کر کے دونوں ممالک میں پائے جانے والے تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی کوششیں کر رہی ہیں ۔تاہم دونوں ممالک کو خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے صبرو تحمل سے کام لے کر ان مذموم سازشوں کو ناکام بنانا ہو گا۔ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ پورے خطے کی ترقی و خوشحالی کا منصوبہ ہے اور افغانستان اس منصوبے سے براہ راست مستفید ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں تجارت کے فروغ سے دونوں ممالک کے عوام کے لیے ترقی و خوشحالی کے نئی راہیں ہمورا ہوں گی۔افغانستان کے وزیر بررائے صنعت و تجارت نثار احمد گوریانی نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ اپنے تاریخی برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہےاور انہیں مزید مستحکم بنانے کا خواہا ں ہے ۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے اور ٹرانزٹ ٹریڈاور دوطرفہ تجارت میں حائل رکاٹوں کو دور کرنے اور تاجر برادری کو سہولیات کی فراہمی کے لیے وزیر اعظم پاکستان عمران خان ، سپیکر قومی اسمبلی اور پارلیمانی سطح پر ہونے والی کاوشوں کو سراہا ۔ انہوں نے قومی اسمبلی آف پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والےدوروزہ سیمینار کی تعریف کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہا ر کیا کہ یہ سیمینار دوطرفہ تعلقات خصوصاًاقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں ایک پیش خیمہ ثابت ہو گا۔