پاکستان اور ایتھوپیا موسمیاتی تعاون بڑھانے پر متفق، پاکستان موسمیاتی تعاون کیلئے ایتھوپیا کے گرین لیگیسی ماڈل سے سیکھ سکتا ہے، ایتھوپین سفیر

موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے پاکستان اور ایتھوپیا جیسے ترقی پذیر ممالک کےلئے یہ ضرورت مزید واضح کر دی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ اور عملی اقدامات کریں۔ اسی تناظر میں اسلام آباد میں پائیدار ترقی پالیسی ادارے (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام پاکستان ایتھوپیا موسمیاتی لچک کے تعاون پر اعلیٰ سطح کا سیمینار منعقد ہوا جس میں ماہرین …

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے پاکستان اور ایتھوپیا جیسے ترقی پذیر ممالک کےلئے یہ ضرورت مزید واضح کر دی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ اور عملی اقدامات کریں۔ اسی تناظر میں اسلام آباد میں پائیدار ترقی پالیسی ادارے (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام پاکستان ایتھوپیا موسمیاتی لچک کے تعاون پر اعلیٰ سطح کا سیمینار منعقد ہوا جس میں ماہرین نے شجرکاری، پانی کے تحفظ، زراعت، خواتین کی شمولیت، قدرتی ماحولیاتی حل، سبز روزگار اور موسمیاتی مالیات کے شعبوں میں باہمی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو موسمیاتی خطرات کے متاثرین بننے کے بجائے عملی حل پیش کرنے والے ممالک کے طور پر آگے بڑھنا ہوگا۔ پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیرعمر حسین اوبا نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے اور اب دنیا کو محض خطرات کی نشاندہی کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے ایتھوپیا کے گرین لیگیسی انیشی ایٹو کو پاکستان کے لیے قابل عمل مثال قرار دیتے ہوئے بتایا کہ چونکہ ملک کی 80 سے 85 فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے، اس لئے شجرکاری، زمین کی بحالی اور سبز معیشت کو عوامی روزگار سے جوڑا گیا۔ لاکھوں افراداس مہم کا حصہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام نے نہ صرف ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کئے۔ انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا حکومت، تحقیق، جامعات اور عوام کے اشتراک سے حاصل ہونے والے اس تجربے کو پاکستان سمیت دوست ممالک کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہے۔

ایس ڈی پی آئی کے نائب سربراہ ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ جغرافیائی فاصلے اب پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں رہے۔ انہوں نے نوجوانوں، زراعت اور ماحولیات کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور جنوبی جنوب تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا۔ڈاکٹر شفقت منیر نے گرین لیگیسی کے تحت بڑے پیمانے پر شجرکاری کو قابل ذکر کامیابی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان بھی عالمی موسمیاتی مذاکرات میں اہم کردار ادا کر چکا ہے، خصوصاً COP27 میں لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کے قیام کے لئے اس کی کوششیں نمایاں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا کا سیلاب، خشک سالی اور غذائی نظام سے نمٹنے کا تجربہ پاکستان کے لئے مفید ہو سکتا ہے جبکہ پاکستان کا نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر ایتھوپیا کے لیے ایک مفید مثال بن سکتا ہے۔ انہوں نے COP32 کی تیاری میں ایتھوپیا کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔

گرین لیگیسی انیشی ایٹو کی ٹیکنیکل کمیٹی کے سربراہ پروفیسر عافریس ورکو نے بتایا کہ 2019ء میں شروع ہونے والے پروگرام کا مقصد جنگلات کی کمی، زمین کی تباہی اور مٹی کے کٹائو سے نمٹنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا نے بڑے پیمانے پر شجرکاری کے ذریعے جنگلات کا رقبہ 17 فیصد سے بڑھا کر 23.6 فیصد کیا جبکہ سالانہ زمین کے انحطاط میں بھی نمایاں کمی آئی۔ اب مزید اربوں پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور پھل دار و مقامی اقسام کی شجرکاری کے ذریعے لاکھوں افراد کو متحرک کیا جا رہا ہے جس سے سبز روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔عارف گوہیر نے کہا کہ پاکستان اور ایتھوپیا کو پانی کی قلت، سیلاب، خشک سالی، غذائی عدم تحفظ اور زمین کی تباہی جیسے تقریباً یکساں موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے COP کی سائیڈ تقریبات میں دونوں ممالک کے مشترکہ پروگرام اور موسمیاتی طور پر کمزور ممالک کی مشترکہ آواز اٹھانے کی تجویز دی۔

ایس ڈی پی آئی کی زینب نعیم نے موسمیاتی تبدیلی کو صنفی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی بحران کا سب سے زیادہ اثر خواتین، خصوصاً کسانوں اور چرواہوں پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایتھوپیا کے کلائمیٹ جینڈر ایکشن پلان اور موسمیاتی بجٹ سازی کے تجربات کو مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر اطہر حسین نے کہا کہ پاکستان میں درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار عالمی اوسط سے زیادہ ہے، حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

انہوں نے دونوں ممالک کے لئے جدید موسمیاتی ٹیکنالوجی خصوصاً سولر جیو انجینئرنگ پر مشترکہ تحقیق کے امکانات اجاگر کئے۔پانی اور موسمیات کے ماہر ڈاکٹر شاہد اقبال نے تعاون کے تین بنیادی شعبے تجویز کئے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی حل اب کسی اضافی سہولت کے بجائے موسمیاتی تحفظ کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔سیمینار میں ایتھوپیا کے گرین لیگیسی انیشی ایٹو پر دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔ مجموعی طور پر مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایتھوپیا اپنے مشترکہ موسمیاتی خطرات کو باہمی تعاون، تحقیق، شجرکاری، پانی کے بہتر انتظام، خواتین اور نوجوانوں کی شمولیت اور سبز روزگار کے مواقع میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

 

مزید خبریں